آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 38 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 38

73 72 میرے لئے تو سب راستے بند ہو گئے۔اے خدا! اے پر میشور! رحم کر ! “ یہ کہہ میں ایک سال پہلے کا اُس رات والا واقعہ یاد آ گیا۔کر وہ اس قدر مضطرب ہو کر چیچنیں مار کر رویا کہ میرے دل پر بے انتہا اثر ہوا میں نے کہا:- "پنڈت جی ! جھوٹ کہنے لگے۔”خدا ہی کی قسم اور میں وہاں سے چپکے سے کھسک آیا۔صبح ہوئی تو میں حیران تھا کہ ابھی تک کھاتا ہوں کہ یہ اُسی کا بھائی ہے۔میں نے کہا ” اُس کا بھائی تو ہو گا مگر تمہارا رپورٹ نہیں آئی کہ وہ لڑکا مر چکا ہے۔آخر شفا خانہ کے مقررہ وقت پر جا کر بیٹا نہیں ہے۔کیا آپ کا وہ اُس رات کا اقرار اور اس پنڈتانی کی گواہی کافی اُسے دیکھا۔تو ابھی زندہ موجود تھا۔تین چار دن تک اُس کی وہی معلق حالت نہیں ہے؟ جو تم مجھے دھوکا دیتے ہو ؟ پنڈت روتا ہوا ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا۔رہی۔پھر نہایت آہستہ آہستہ سُدھرنی شروع ہوئی۔یہاں تک کہ ایک ماہ تک کہنے لگا ” مہاراج وہ بھی سچ تھا۔اور جو دیکھ رہے ہیں یہ بھی سچ ہے۔اُسے ہوش آ گیا۔اور کچھ کچھ سننے لگا۔پھر ایک ماہ اور گزرا تو چلنے پھرنے، میں نے کہا: "پنڈت جی ! کون سی بات سچی تھی؟ کہنے لگے 66 66 کھانے پینے لگ گیا۔مگر اندھا تھا اور بہت اونچا سنتا تھا۔مہاراج وہ بھی سچ تھا اور یہ بھی سچ ہے۔اس پر مجھے تو وجد آ گیا۔جی چاہتا میں نے کہا: ” پنڈت جی ! مبارک ہو۔اب تم اسے گھر لے جاؤ تھا کہ وہیں زمین پر اُس رحیم و کریم خدا کے آگے جو مضطرب کی دُعاؤں کو سُنتا اور آب و ہوا کی تبدیلی کراؤ۔لیکن ہفتہ وار اسے دکھا جایا کرنا۔چنانچہ اسی اور قبول کرتا ہے سجدہ میں گر جاؤں۔اور واقعی میرا دل گر بھی گیا۔مگر بہت سے طرح ہوتا رہا۔رفتہ رفتہ کان بھی ٹھیک ہو گئے اور نظر بھی واپس آنے لگی۔حتی لوگ کھڑے تھے جگہ بھی نہ تھی میں کچھ شرما گیا۔که نو دس مہینے کے بعد بالکل اچھا ہو گیا۔صرف سر پر بال نہ تھے۔ایک دن پنڈت کہنے لگا: ”وہ باتیں دل سے نکلی تھیں اور آدھی رات کو ست پنڈت جی لڑکے کو نہلا دھلا کر نئے بھڑک دار کپڑے پہنا کر میرے پاس دھرم یعنی یقین و ایمان اور دردِ دل سے نکلی تھیں۔میرا لڑکا بھی بچ گیا میں بھی لائے۔اور ایک تھال جس میں شاید ایک روپیہ کی مٹھائی ہوگی میرے آگے سرکا صحتیاب ہو گیا۔اور دوسرا بچہ تو خدا کی خاص دین ہے۔“ دیا۔میں نے کہا: تمہاری بے قراری کی دُعا خدا کو پسند آئی۔اور اُس پھر ایک طرف سے اپنی بیوی کو بلا یا۔وہ بیچاری گھونگٹ نکالے میرے نے تو شاید اُس وقت ہی فرما دیا ہو گا کہ تیرے اس لڑکے کو بھی صحت دوں گا قدموں میں آ بیٹھی۔پنڈت جی اُسے کہنے لگے۔”دکھا بھی اری دکھاتی کیوں اور ایک نیا لڑکا بھی تجھے بخشوں گا۔“ نہیں ڈاکٹر صاحب کو؟ میں سمجھا کہ نبض دکھانی ہو گی یا کوئی بیماری۔اُس کی طرف توجہ کی تو اُس نے آہستہ سے اپنی جھولی کھول دی دیکھتا کیا ہوں کہ ایک پندرہ میں دن کا چاند سا لڑکا گود میں سو رہا ہے۔میں نے کہا: ”یہ کیا؟ پنڈت جی مسکرا کر فرمانے لگے کہ "پر میشر پنڈت جی کہنے لگے ” مہاراج بات یہی ہے۔(36) کہ آئین جہاں گا ہے چنیں گا ہے چناں باشد 1918ء میں پانی پت ہی کا ذکر ہے کہ ایک شخص مع کئی رفیقوں کے نے میرے لڑکے کو دوسرا بھائی دیا ہے۔یہ سُن کر بجلی کی طرح میرے ذہن میرے پاس لایا گیا۔رپورٹ تھی کہ اس کے اُن ران یعنی چڑھے میں ایک