آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 37 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 37

71 70 جائے تو وہ پیشاب میں شوگر کا ٹیسٹ دے دیتی ہے۔اس لئے تحصیلدار یہیں شفا خانہ میں داخل کر دو اور دونوں اس کے پاس رہا کرو۔جب اچھا ہوگا صاحب گھر سے ایک پڑیا شکر کی لے کر گئے تھے گلاس میں پیشاب کرنے تو گھر لے جانا پنڈت جی نے میری بات مان لی۔گرمی کا موسم تھا میں نے لگے تو آہستہ سے وہ پڑیا کھول کر گلاس میں ڈال دی پھر اُس میں پیشاب کر برآمدہ کی ایک طرف اُن کے لئے خالی کرادی اور علاج ہونے لگا۔مگر بخار دیا۔بدقسمتی سے وہ چپڑاسی جسے اُنہوں نے اپنے فیض انعام سے محروم رکھا تھا بڑھتا ہی چلا گیا حتی کہ اکیسویں دن بجائے کم ہونے کے 106 کے قریب تھا۔یہ بات دیکھ رہا تھا۔اُس نے اندر جا کر بورڈ کے کسی ممبر کو یہ بات بتا دی کہ پھر چوتھا ہفتہ بھی اس طرح گزرا۔پانچواں بھی۔چھٹا بھی۔آخر دو مہینے ہو اس طرح پیشاب میں اس شخص نے ایک پڑیا ڈالی ہے۔جب پیشاب ٹیسٹ گئے۔لڑکا سوکھ کر کانٹا ہو گیا۔سر کے بال سب جھڑ گئے کانوں سے بہرہ ہو گیا کیا گیا تو شکر تو اس میں واقعی نکلی مگر تھی دس فیصدی کے قریب اور جو اُن کی اور بالآخر آنکھوں سے بھی اندھا۔نہ پہچانتا تھا نہ سنتا تھا نہ سمجھتا تھا۔صرف بندر عرضی کے ساتھ پیشاب کے ٹیسٹ کا نتیجہ تھا اُس میں تین فیصدی کے قریب ے بچے کی طرح بار یک بار یک چیچنیں مارتا رہتا تھا۔چوتڑوں اور کمر پر پڑے شوگر لکھی تھی۔غرض شبہ پیدا ہو گیا۔پھر اُن کو کہا گیا کہ گھنٹہ بھر انتظار کریں۔پڑے زخم ہو گئے اور بالکل مشت استخواں رہ گیا۔البتہ سانس تھا جو چل رہا تھا۔اس کے بعد اسی کمرہ کے کونہ میں اُن کا بٹھا کر دوبارہ پیشاب کرایا گیا۔اس ہوتے ہوتے ڈھائی مہینے گزر گئے اور ہر طرح نا امیدی کی صورت ہو گئی۔اب دوسرے پیشاب میں ایک ذرہ شوگر کا نہ تھا۔جب دھمکایا گیا تو اُنہوں نے اپنی چالاکی کا اقرار کر لیا۔آخر اس جرم میں ملازمت سے برخاست ہو گئے۔اور بجائے پوری پنشن ملنے کے نوکری بھی گئی اور پنشن بھی۔کے مرا کہ اب مرا۔ایک روز رات کے دو بجے کا وقت تھا کہ باپ نے میرے گھر کی گنڈی کھٹکھٹائی میں باہر آیا تو کہا۔لڑکے کو چل کر ذرا دیکھ لیں۔میں نے جا کر دیکھا تو نزع کی سی حالت تھی۔تسلی دے کر کہا کہ پنڈت جی ! میں اور تم دونوں دو ڈھائی مہینہ سے اس مکان کو گرتے دیکھ رہے ہیں۔اب خدا پر سارا " (35) مضطرب کی دُعا 1917ء کا ذکر ہے۔میں پانی پت میں تھا کہ پنڈت تقریباً 45 سال معاملہ چھوڑ دو۔اور صبر کرو۔یہ صبح پکڑتا تو نظر نہیں آتا۔پنڈت نے بے قرار کی عمر کا میرے پاس کبھی کبھی اپنے بارہ سالہ بچے کو علاج کے لئے لایا کرتا تھا۔ہو کر ایک سخت اضطراب کی شیخ ماری اور کہنے لگا۔ڈاکٹر صاحب! یہی ایک میرا بچارہ غریب آدمی تھا مگر سمجھدار۔لڑکا اس کا اکلوتا بیٹا تھا۔ایک دفعہ باپ اُسے بچہ تھا۔اور آئندہ کے لئے بھی کوئی امید نہیں۔دیکھئے اس وقت آدھی رات کا بخار کے علاج کے لئے لایا اور کئی دن برابر لاتا رہا۔یہاں تک کہ تشخیص یہ ہوئی وقت ہے اور مرنے والے کے پاس جھوٹ بولنا پاپ ہے۔پرمیشور حاضر ناظر کہ ٹائی فائڈ یعنی میعادی بخار ہے۔جو عموماً تین ہفتہ تک رہتا ہے۔بخار کو شاید ہے۔یہ میری عورت سامنے بیٹھی ہے۔یہ گواہ ہے کہ اس بچہ کے بعد میرا اس دسواں دن ہوگا کہ میں نے کہا کہ پنڈت جی! لڑکا اب زیادہ بیمار ہے اور تم کی ماں سے کوئی تعلق زوجیت کا نہیں رہا۔اسے پیدل شفا خانہ لاتے لے جاتے ہو۔تم میاں بیوی دونوں تو ہو ہی اسے اب لڑکا تو جاتا ہے۔آئندہ کے لئے نسل چلنے کی بھی کوئی امید نہیں