آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 39
75 74 دن پہلے بندوق کے چھرے لگ گئے تھے۔اور اس قدر بے حد خون گیا کہ جسم وہ شخص جوان اور تندرست تھا بہت جلد اس کی صحت ترقی کرتی گئی کا رنگ ہلدی کی طرح ہو گیا تھا۔دیکھا تو واقعی اس کے جسم کا خون نچڑ چکا اور زخم بھی صاف ہوتا گیا۔یہاں تک کہ بارہویں دن رات کے ایک بجے کسی تھا۔میں نے پوچھا: ”کیا معاملہ ہوا ؟ اس کے ساتھی کہنے لگے کہ یہ شخص نے میرے گھر کی کنڈی کھٹکھٹائی۔اور آواز دی کہ شیر خاں کے زخم سے خون گاؤں میں اچھی حیثیت کا زمیندار ہے۔کل پولیس بعض مویشی کے چوروں کے جاری ہو گیا ہے۔میں فوراً اُٹھ کر سیدھا اُس کے پلنگ پر پہنچا اور لالٹین کی تعاقب میں پھر رہی تھی کہ یہ بھی بطور امداد ان کے ساتھ چل پڑا۔ایک جنگل روشنی میں دیکھا کہ وہ چپت پڑا ہے اور اُس کے زخم کی جگہ سے ایک موٹی دھار میں اُن کا چوروں سے مقابلہ ہو گیا۔وہ نہر کے پرلے کنارے پر تھے اور یہ لہو کی فوارہ کی طرح دو فٹ اُچھل اچھل کر نکل رہی ہے اور جس طرح شالا مار ورلے کنارے پر۔ان کو دیکھ کر چوروں نے فائر کر دیا۔بہت سے چھڑے اس باغ کے فوارے میلہ چراغاں میں چلا کرتے ہیں۔اسی طرح اسی خونی فوارہ کا شخص کے بائیں چڑھے میں گھس گئے۔اور وہ جگہ چھلنی کی طرح ہو گئی۔یہ گر بھی حال ہے۔خیر میں نے جاتے ہی اس سوراخ پر اپنی انگلی رکھ دی جہاں پڑا۔ہم اسے اُٹھا کر گھر لے آئے۔مگر خون کسی طرح بند نہ ہوتا تھا۔آخر جب سے خون کی دھار اُچھل کر نکل رہی تھی۔اور خون بند ہو گیا پھر میں نے آدمی بہتے بہتے اس کے جسم میں خون ہی نہ رہا تو پھر بند ہو گیا۔اب اسے داخل شفا بھیج کر اپنے تینوں کمپونڈروں کو بلا کر کہہ دیا کہ صبح 8 بجے اس کا آپریشن ہو گا۔خانہ کر کے علاج کریں۔چھ گھنٹہ باقی ہیں۔آپ لوگ دو دو گھنٹہ کی ڈیوٹی لے لیں۔آپ کا کام صرف یہ چنانچہ میں نے اُسے دیکھا تو معاملہ ویسا ہی تھا جیسا بیان ہوا تھا۔ہے کہ اس دھار کی جگہ اپنی انگلی برابر رکھے رہیں تا کہ خون ضائع نہ ہو سکے۔اور جس جگہ چھترے لگے تھے وہاں جسم کی بڑی بڑی خون کی نالیاں تھیں اور ایک بس اس کے بعد میں تو واپس چلا آیا۔اور وہ لوگ اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے چھڑے سے ان میں بھی سوراخ ہو گیا تھا۔خیر میں نے اُسے رکھ لیا اور ڈریسنگ رہے۔صبح چھ بجے اُٹھتے ہی آپریشن کی تیاری شروع ہو گئی۔آٹھ بجے تک بیمار وغیرہ کا حکم دے دیا مگر۔یہ مجھے معلوم تھا کہ جب جسم میں نیا خون پیدا ہو گا۔میز پر اور میں چاقو ہاتھ میں لئے کھڑا تھا۔غرض کلورا فارم دیا گیا اور مریض کا اور زخم میں سے چھیچھڑے وغیرہ صاف ہو کر نکلنے شروع ہوں گے تو شریان کا وہ پیٹ چاک کر کے چھترہ کے سوراخ سے او پر اس شریان کو ریشم کے تاگے سے سوراخ جو عارضی طور پر بند ہو گیا ہے پھر کھل جائے گا اور خون پھر اُسی طرح باندھ دیا گیا۔پھر پرانے زخم سے اُنگلی اُٹھا کر دیکھا تو خون بالکل بند تھا۔میں جاری ہو جائے گا۔جیسے پہلی دفعہ ہوا تھا۔نے شکر کیا کہ خون بہنے کا مستقل انسداد ہو گیا۔مگر ابھی ایک اور خطرہ لاحق تھا۔وہ آدمی متمول تھا اور اُس کے پاس کئی خدمتگار ہر وقت رہتے تھے۔وہ یہ کہ اس آپریشن سے بائیں ٹانگ اور دورانِ خون بالکل بند ہو گیا تھا۔بعض میں نے اُن سے کہہ دیا کہ اس کو کچھ دن کے بعد یک دم پھر خون جاری ہو حالات میں یہ بند نہیں بھی ہوتا۔مگر اس کا بند ہو گیا تھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ تیسرے جائے گا۔اور خواہ کوئی وقت بھی ہو تم فوراً مجھے اطلاع دے دینا۔شرم نہ کرنا کہ دن کے بعد وہ ٹانگ بے جان ہو کر سڑنے لگی اور ایک ہفتہ تک ساری کالی پڑ ڈاکٹر صاحب آرام میں ہیں ورنہ اس کی خیر نہ ہوگی۔گئی۔مجبوراً دوسری دفعہ آپریشن کرنا پڑا۔اور ساری ٹانگ بن ران تک کاٹ کر