آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 35 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 35

67 66 صرف ایک پینڈی پسے ہوئے پستوں اور باداموں کی بمشکل کھائی گئی۔مغرب کے ہاؤس سرجن سے کہنے لگے کہ ”ویل آئی ہاوس سرجن صاحب! میرے لئے کی اذان کے وقت معجون فلاسفہ ہمراہ شربت بزوری 3 تولہ اور عرق سونف کچھ زنک لوشن آنکھ کی سوزش کے لئے بنا کر بھیج دینا“۔اس بچارے نے اپنے معتدل آدھ پاؤ۔کے آہستہ آہستہ کھایا پیا گیا۔بعد از نماز مغرب دوائے مسکن ہاتھ سے ایک اچھی سی نئی شیشی دھو کر صاف کی۔پھر نہایت احتیاط سے تازہ زنک لوشن بنا کر خود گرانٹ صاحب کے لئے لے کر آیا۔صاحب نے شیشی اعصاب مع مفرح یا قوتی و مرتبه برگ پان کے نوش فرمائی گئی۔پھر ایک گھنٹہ بعد صبح والی گولی اور عرق دہرائے گئے۔اور رات کا کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ میں لے کر کہا۔گرانٹ صاحب: - " کیا میں تمہارا دشمن ہوں یا تم کوئی پرانا انتقام مجھے پھلوں کا رس ایک گلاس اس قرص شفاء اور جوارش جالینوس کے ساتھ استعمال کیا گیا۔مگر جب کھانا آیا تو بھوک نہ تھی۔مجبوراً بے بھوک ہی کھا لیا گیا۔عشاء کی سے لینا چاہتے ہو؟“ نماز کے بعد سونے تک ملازمہ نے دو دفعہ ایک ایک گھنٹہ کے وقفہ سے بعض ہاؤس سرجن : (حیران ہو کر) ”نہیں جناب میں تو آپ کے لعوق اور دوائیاں لا کر کھلائیں۔ایک تو کوئی چھٹانک بھر وزن کا ہوگا اور دوسری فرمانے کے بموجب زنگ لوشن بنا کر لایا ہوں۔“ ایک گولی بمع شربت اکسیر معدہ جو آدھے گلاس کے قریب ہوگا۔رات کو نفخ اور گرانٹ صاحب نہیں تو یہ تو شورہ کا تیزاب ہے۔خالص 66 قراقر کی وجہ سے بآرام نیند نہ آئی سینہ جلتا رہا۔چھاتی پر بوجھ تھا اور گلے میں تیزاب۔نائٹرک ایسڈ۔“ خراش ذرا سوچنے کی بات ہے کہ صرف دوائیں شربت اور عرقیات ہی تین سیر ہاؤس سرجن : - ( پریشان ہو کر ) ”آپ کو غلط نہی ہوئی ہے یہ صرف کے قریب جب پیٹ میں جاتی رہی ہوں تو پھر کھانا کس جگہ جائے؟ اور کیونکر زنک لوشن ہے اور میں اپنے ہاتھ سے تیار کر کے لایا ہوں۔“ ہضم : ہو۔ہر وقت دواؤں کی عادت بھی ایک مصیبت ہے۔اور سو بیماریوں کی گرانٹ صاحب:۔اس کا ثبوت ایک بیماری خدا محفوظ رکھے۔(32) بوتل برليبل رہا ہوں۔" 66 ہاؤس سرجن : ”میں خود اپنے ہاتھ سے بنا کر ابھی سیدھالئے چلا آ گرانٹ صاحب:۔افسوس ہے کہ میں نہیں لے سکتا۔آپ کے میں لاہور میو ہاسپٹل میں ایک زمانہ میں ہاؤس (House) سرجن پاس جو ثبوت ہے اس پر آپ خود ہی تسلی پا سکتے ہوں گے۔میری تسلی نہیں بھی رہا ہوں۔اُس وقت ایک پروفیسر کرنل گرانٹ نامی کچھ دنوں کے لئے کالج ہے۔میں تو اسے تیزاب ہی خیال کرتا ہوں۔اسے لے جائیے میں ایسی کے پرنسپل اور ہسپتال کے سپرنٹنڈنٹ بنا دیے گئے تھے۔ان میں کامن سنس خطرناک چیز اپنی آنکھوں میں نہیں ڈال سکتا۔“ (Common Sense) بہت تھی۔ہم چار ہاؤس سرجن شفا خانہ میں بیک وقت موجود تھے۔ایک دن کرنل گرانٹ کی آنکھ جو دُ کھنے آئی تو آنکھوں کے محکمہ ہاؤس سرجن : میں آپ کے ارشاد کا مطلب سمجھا نہیں؟“ گرانٹ صاحب - ہاؤس سرجن صاحب! ہر شیشی پر دوا کے نام کا