آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 36 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 36

69 68 لیبل ہونا ضروری ہے جس سے معلوم ہو کہ اس کے اندر کیا ہے۔ورنہ پھر سا کافور کھا کر آتے تھے تو کچھ بخار اُن کو ہو جاتا تھا۔پھر ایک زمانہ آیا تو پلیگ سوائے اعتبار کے ہمارے پاس کوئی ثبوت باقی نہیں رہتا۔آپ زنگ لوشن تو بنا کا ٹیکہ کہیں سے کرا کر سرٹیفیکیٹ لینے آجاتے تھے۔ان کو 102 یا 103 بخار ہو لائے مگر دوا سازی کا پہلا اصول ہی بھول گئے۔اب میں یہ کہنے میں حق جایا کرتا تھا۔مگر اب اس سے بھی زیادہ آسان ترکیب نکلی ہے یعنی دودھ کا ٹیکہ بجانب ہوں کہ یہ تیزاب ہے۔نہ کہ زنگ لوشن۔اگر لیبل نہ ہوا کریں تو لوگوں اس سے تو بعض اوقات 105 تک بخار ہو جاتا ہے۔بخار تو ایک رات رہتا کی جانیں خطرہ میں پڑ جائیں اور جس نے زبانی طور پر جو نام جس دوا کا رکھ ہے مگر ایک ہفتہ کی چھٹی کا سرٹیفیکیٹ ضرور مل جاتا ہے“۔دیا اگر وہ مان لیا جائے تو اندھیر آ جائے۔اس لئے ہرشیشی پر لیبل ضروری ہے (34) بہت چالا کی بھی نقصان دہ ہو جاتی ہے 66 تا دھوکا نہ رہے اور بیمار نقصان نہ اُٹھا ئیں۔“ یہ قصہ ہم سب پڑھے لکھے لوگوں کے لئے جن کے گھروں میں ایک تحصیلدار صاحب قبل از وقت پوری پنشن پر ریٹائر ہونا چاہتے دوائیاں اور شیشیاں رہتی ہیں بہت اچھا سبق ہے۔اگر بوتلوں پر ہمیشہ لیبل اور تھے۔ایک دن انہوں نے اپنا پیشاب مجھ سے ٹیسٹ کرایا تو اُس میں کچھ شکر دوا کا نام ہوتا تو بیسیوں حادثات سے لوگ بچ جاتے کبھی یہ ہوتا ہے کہ ایک تھی مگر بہت خفیف۔مجھ سے کہنے لگے کہ ” مجھے سرٹیفیکیٹ لکھ دیں کہ اس کے پیشاب میں شکر پائی جاتی ہے۔میں نے سرٹیفیکیٹ لکھ دیا۔اس کے بعد انہوں نے عرضی دی کہ ”مجھے ذیا بیطیس ہو گیا ہے اور شکر آتی ہے مجھے فوراً ہیں۔پھر مجبوراً وہ دوا پھینک دینی پڑتی ہے کہ خدا جانے کیا چیز اس بوتل میں ملازمت سے ریٹائر کیا جائے۔اور ثبوت میں میرا ڈاکٹری سرٹیفیکیٹ پیش کر مدت کے بعد لوگ بغیر لیبل کے بوتلوں کی دواؤں کے نام خود بھول جاتے 66 تھی۔اور اس طرح کارآمد اور قیمتی دوائیں بھی ضائع ہوتی رہتی ہیں۔ایک دفعہ اسی غلطی کے ماتحت کسی شخص نے اپنی آنکھ میں ایسے رین کی دیا۔اس پر حکم آیا کہ تم چونکہ گزٹیڈ افسر ہو اس لئے میڈیکل بورڈ کے رُوبرو جگہ خالص کار بالک ایسڈ ڈال لیا تھا۔اور میری ایک ملازمہ نے تیس سال پیش ہو۔اُس کے فیصلہ پر پنشن مل سکے گی۔چنانچہ تاریخ مقررہ پر وہ بورڈ ہوئے کہ نمک کی جگہ میرے سالن پر کوکین چھڑک دی تھی۔یہ محض خدا کا فضل میں پیش ہوئے۔وہاں کئی رخصت حاصل کرنے والے لوگ اور بھی کھڑے تھے۔دفتر کا ایک چپڑاسی سب سے اپنا انعام مانگتا پھرتا تھا۔باقی سب نے تو کچھ نہ کچھ دے دیا مگر انہوں نے تحصیلداری کے گھمنڈ میں کچھ نہ دیا۔خیر جب اُن کی باری معائنہ کی آئی تو اُن کو ایک گلاس پیشاب کرنے کے لئے تھا جو میں بچ گیا۔(33) بخار چڑھانے کی ترکیبیں ایک دن میں نے کسی مجلس میں کہا کہ میں جھوٹا سرٹیفیکیٹ نہیں دیا دیا گیا۔یہ کمرہ کے باہر برآمدہ کے کونہ میں ہی پیشاب کرنے بیٹھ گئے۔شکر کرتا۔وہاں ایک ڈاکٹر صاحب بیٹھے تھے کہنے لگے کہ لوگ مجھے تو دھوکا دے وغیرہ تو زیادہ آتی نہ تھی مگر انہوں نے ایک ڈاکٹر سے پوچھ کر یہ حکمت سیکھ لی لیتے ہیں۔میں بولا کس طرح؟ انہوں نے کہا کہ ” پہلے تو بعض لوگ بہت تھی کہ اگر گنے کی شکر جو عام طور پر کھائی جاتی ہے پیشاب میں گھول دی 1