آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 31 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 31

59 58 حسب ذیل نشانات ضرب موجود ہیں۔ہے۔میں رخصت پر یہاں گھر آیا تھا کہ ایک مقدمہ کا جھگڑا کھڑا ہو گیا۔ایک (1) یک نشان نیلگوں بر گوڑہ چپ (یعنی چوٹ کا ایک نیلا نشان دو مہینے اس کے نپٹانے میں لگیں گے۔آپ مہربانی فرما کر اپنی فیس لے لیں بائیں گھٹنے پر ) (2) یک نشان دند وڈ نے کا بر دکھی جانب راست (یعنی دانت کاٹنے کا نشان دائیں پسلیوں پر ) سے اور مجھے دو ماہ کی رخصت بیماری کی لکھ دیں ورنہ میرا بڑا نقصان ہو گا۔میں نے عرض کیا ”پھر میں نجاست کیوں کر کھاؤں؟“ کہنے لگے۔” تو بہ تو بہ ! بھلا میں ایسی بے ادبی کر سکتا ہوں؟ آپ کی تو قلم کی ایک کشش سے میرا کام بن (3) پشت پر کھڑ نچیں اور جھر ٹیاں نامعلوم السبب (یعنی پیٹھ پر کچھ خراشیں سکتا ہے۔یہ کہہ کر انہوں نے کچھ روپے میرے سامنے رکھ دیئے۔میں نے کہا ،، اور رگڑیں جن کی وجہ معلوم نہیں ) کہ اتنے سے روپے کے بدلے تو کسی آدمی کے لئے بھی نجاست کھانا مشکل مضروب کہتا ہے کہ میں مستیان لال و گلاب کے دروازے کے آگے ہے۔کہنے لگا ”اچھا دور پیہ اور لے لیں۔میں نے کہا پھر بھی نجاست کیوں سے گزر رہا تھا۔وقت کو ڈھ ویلے کا تھا کہ میں نے ایک راس بولد اُن کے کر حلق سے اُترے گی؟ حیران سے رہ کر پوچھنے لگے ”حضرت کون سی دروازه بر بستہ دیکھا میں نے اپنی لکڑی سے اُسے ہٹایا کہ برائے گزر راستہ نجاست؟“ میں نے کہا کہ ”آپ نے آتے ہی فرمایا تھا کہ جھوٹ بولنا اور گو صاف ہو جائے۔میری اس حرکت معقولہ سے مستمیان مذکورہ گھر میں سے برآمد کھانا برابر ہے۔اس لئے میں سچ سچ ساری بات عرض کر دیتا ہوں۔گویا آپ ہو کر من مدعی کی خورۀ و ملکہ وکٹھن سے خاطر تواضع کرنے لگے۔عالی جاہا تو راستباز ہیں۔جھوٹ بولنا اور نجاست کھانا برابر سمجھتے ہیں۔مگر میرے لئے چند التفتيش والتحقيقات معامله راست راست و بے کم و کاست سچا معلوم ہوتا روپے لے کر وہی نجاست کھانا ضروری ہے۔تشریف لے جائیے۔جب میری ہے۔لہذا نقشہ مضروبی ہمراہ مرسل ہے۔ضربات کی رپورٹ عنایت فرمائی فطرت ایسی مسخ ہو جائے گی کہ نجاست کھانے میں مجھے کوئی عذر نہ ہو گا۔پھر جاوے۔مضروب کو بسواری چار پائی شفا خانہ بھیجا جاتا ہے۔“ میں ایسے سرٹیفیکیٹ لکھ دیا کروں گا۔آپ اپنے آپ کو بیمار ظاہر کر کے اور مجھے یہ وہ فن تحریر ہے جو ایک قرن تک پولیس میں رائج رہا اور اس کو دھوکا دے کر تو سرٹیفیکیٹ حاصل کر سکتے تھے۔کیوں کہ ڈاکٹر بھی دھوکا کھا سکتے بڑے فخر کے ساتھ منشیانہ طرز کہا جاتا تھا۔شاید اب کم ہو گیا ہوگا۔ہیں۔لیکن میرے منہ پر یہ کہہ کر کہ جھوٹ بولنا اور نجاست کھانا برابر ہے۔اس عندا (27) آپ تو نیچے بنیں اور ہم جھوٹ بولیں لئے میں تو یہ گندا کام نہیں کر سکتا۔بلکہ سچ سچ ساری حقیقت بیان کر دیتا ہوں ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص میرے پاس رخصت کا سرٹیفیکیٹ البتہ جس نجاست کو میں نے ترک کیا ہے وہ آپ ضرور کھا لیں یہی مطلب ہے لینے آیا۔کہنے لگا۔” جناب ! آپ جانتے ہیں کہ جھوٹ بولنا اور نجاست کھانا نا آپ کا؟ کہنے لگے ”آپ تو لفظوں کو پکڑتے ہیں، میں نے کہا ”کیا برابر ہے۔بھلا آپ کے سامنے ہم غلط بیانی کر سکتے ہیں۔مگر معاملہ ضروری آپڑا آپ کا گلا پکڑ لوں۔اجازت ہے؟“ بے چارے خاموش ہو کر چلے گئے۔اس قسم کی باتیں ہر ڈاکٹر کو اکثر پیش آتی ہیں۔لوگ منہ پر گالیاں بھی