آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 30 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 30

57 56 دفعہ آزاد ہو کر اُس نے ان سب لوگوں کو نئے سرے سے مرعوب کر لیا اور ہمارا میں نے کہا: ” تو خود ہی اس میز پر سے اتر کر پیدل باہر جا اور اپنے عمل سب بیکار ہو گیا۔مگر میں نے اُن سے کہا کہ جلدی اسے قابو کرو اب یہ چھکڑے پر سوار ہو جا۔چنانچہ اُس نے ایسا ہی کیا۔جن نکلنے پر آیا ہے۔اس وقت ذرا بھی غفلت کی تو میری اور تمہاری دونوں کی میں نے اُس کے باپ سے پکار کر کہا کہ ”جب کبھی پھر یہ جن خیر نہیں“۔غرض یہ ہزار دقت انہوں نے اُسے پھر پکڑ کر گرایا اور پوری قوت تمہارے ہاں آئے تو پولیس میں رپورٹ دینے کی ضرورت نہیں۔تم فوراً کے ساتھ اس طرح میز پر دبایا کہ ہلنے کی گنجائش نہ چھوڑی۔میں نے پھر اپنا سیدھے اسے یہاں لے آنا۔اور پولیس والوں کو میں نے جواب دیا کہ ”مسماۃ عمل شروع کیا۔اور اب کی دفعہ ہوا کو چاروں طرف سے بند کر کے بوتل کو ہلا نوری پر واقعی سخت جن چڑھا ہوا تھا میں نے بمشکل اُس کو اپنے عمل سے اُتار دیا کر اس طرح اُسے منہ اور ناک پر فٹ کر دیا کہ دو منٹ میں ہی اُس کی عقل ماری گئی۔پانی کے شرائے اُس کی ناک سے آنکھوں سے اور منہ سے بہنے لگے امید ہے کہ آئندہ پھر وہ اس پر نہیں چڑھے گا۔مگر اس مسمی جھنڈو نے اور موت کا مزا آ گیا۔آخر جب معاملہ اُس کے ضبط سے نکل گیا تو جن کہنے لگا اس کی طرف نہیں بھیجا تھا بلکہ جنوں کا ایک بادشاہ ہسٹیریا (Hysteria) نام کہ ” تم کیا چاہتے ہو؟“ میں نے کہا ”بس یہی کہ تم اس لڑکی کو چھوڑ دو۔کہنے کوہ قاف میں رہتا ہے اس نے اس جن کو اس لڑکی پر بھیجا تھا۔جھنڈو بے قصور لگا ”اچھا۔میں نے کہا " پہلے بھی تم نے ہمیں دھوکا دیا تھا اور ایک منٹ کے ہے۔اور اگر خدانخواستہ وہ جن پھر کبھی اس عورت پر آجائے تو اسے دوبارہ بعد پھر واپس آگئے تھے اس لئے اب تم یہ وعدہ کرو کہ میں جاتا ہوں اور پھر میرے پاس بھیج دینا تا کہ اس جن کو اسم اعظم کے عمل کے ساتھ انگلی جلا کر کبھی عمر بھر اس کے سر پر نہیں آؤں گا اس پر تھوڑی دیر وہ خاموش رہا۔مگر پھونک دیا جائے۔خاموش رہنا اس خوفناک دوا کی وجہ سے ناممکن تھا۔مجبوراً اُس نے کہہ دیا کہ میں جاتا ہوں، پھر کبھی اس لڑکی پر نہیں آؤں گا۔یہ میرا پکا قول و قرار ہے“۔اس پر میں نے اُن لوگوں سے جو اُسے پکڑے ہوئے تھے کہا کہ ”اب لڑکی کو (26) پولیس والوں کی انشاء و املا ذیل میں پولیس کے نقشہ مضروبی کی تحریر کا ایک نہایت اعلیٰ اور منشیانہ چھوڑ دو جب اُسے چھوڑ دیا گیا تو دو منٹ تک وہ بدحواس سی رہی۔مگر جب نمونہ درج کیا جاتا ہے۔اور پھر ایسی تحریروں پر فخر کیا جاتا ہے کہ ”بھئی واہ میں نے نوری نوری“ کہہ کر آواز دی تو جواب دیا ”جی“۔میں نے کہا: ”کیا حال ہے؟“ کہا ” اچھی ہوں“۔داروغہ صاحب تو بے نظیر منشی ہیں جو لکھ دیا بس پتھر کی لکیر ہے ان کے ہاتھ میں پھنسا ہوا کبھی پھانسی سے نہیں بچ سکتا خواہ وکیل لوگ ہائی کورٹ تک زور لگا میں نے پوچھا ”جن اب بھی ہے؟ کہنے لگی چھوڑ گیا“۔پھر مجھے لیں۔منشی ہے نانشی ! اب ان منشیوں کا نمونہ تحریر بھی ملاحظہ ہو : - دیکھ کر سلام کیا۔اور اپنے باپ کو دیکھ کر اُس کے گلے میں باہیں ڈال کر رونے لگی اور کہنے لگی ” چلو گھر چلو“۔" بخدمت جناب ڈاکٹر صاحب مضروب مستمی گنڈا سنگھ آپ کی ڈاکٹری کرانے کے لئے ہمراہ کانسٹیبل نمبر ارسال ہے مضروب کے بدن پر