آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 28
53 52 سے معلوم ہوا کہ وہ فقیر مرض سل و دق سے فوت ہوا تھا۔رکھا۔آٹھویں دن جب پٹی کھولی تو دونوں آنکھیں تارا سی روشن تھیں۔اور (24) صدموں سے آدمی پاگل ہو جاتا ہے آنکھیں بنواتے ہی دُھوپ میں تین میل جانے سے اور تین میل آنے سے ایک بڑھا آدمی ایک دن مجھ سے آنکھیں بنوانے آیا۔اس کی دونوں آنکھیں موتیا بند سے نابینا ہو چکی تھیں۔وہ اکیلا بھی تھا۔میں نے اُس کی دونوں آنکھیں بیک وقت بنا دیں۔اور پٹی باندھ کر چار پائی پر لٹا دیا۔ساتھ ہی اُسے کوئی بھی نقصان نہیں پہنچا تھا۔(25) جنات کا کرشمہ! میں سرسہ ضلع حصار میں تھا۔یہ غالباً 1914ء کا واقعہ ہے۔ایک دن شفاخانہ کے عملہ والوں سے کہدیا کہ یہ شخص بغیر ساتھی کے ہے اس کو کسی طرح ایک پولیس کانسٹیبل ایک عورت کو ڈاکٹری ملاحظہ کے لئے لایا۔میں نے پولیس کی تکلیف نہ ہونے پائے۔بار بار پوچھتے اور دیکھتے رہنا۔" " رپورٹ پڑھی تو اُس میں لکھا تھا کہ ” مستمی فتح محمد موضع فلاں نے پولیس میں ہے شفا خانہ کا کام ختم کر کے گھر آ گیا۔ایک گھنٹہ کے بعد عملہ کا ایک رپورٹ کی کہ ”میرے موضع کے ایک شخص مستمی جھنڈو نے جو میرا مخالف آدمی بھاگا ہوا آیا وہ آنکھوں والا اپنی پٹی کھول کر چار پائی پر پھینک گیا ہے اور میری بیٹی مسمات نوری عمر میں سال پر جو ابھی ناکتخدا ہے کوئی عمل جن بھوت خود غائب ہے یہ خبر پا کر میں باہر نکلا اور لوگوں کو جمع کر کے مختلف راستوں پر وغیرہ کا کرایا ہے اور ایک منصوری پیسہ پڑھوا کر میری لڑکی کی طرف بذریعہ بھیجا کہ اُسے تلاش کر لائیں۔دو گھنٹہ کے بعد وہ پکڑا ہوا آیا۔وہ لوگ جو اُسے مؤکل بھیجا ہے جو نہایت زور سے لڑکی کی پیشانی پر لگا اور اس کے بعد وہ جن پکڑنے کے لئے میں نے بھیجے تھے کہنے لگے کہ ”ہم نے یہاں سے تین میل پر لڑکی پر سوار ہو گیا۔اب لڑکی پر بے ہوشی کے دورے پڑتے ہیں اور وہ کہتی ہے اُسے جا پکڑا ہے۔یہ اپنی لاٹھی لئے آنکھیں کھولے اپنے گاؤں کی طرف چلا جا کہ مجھ پر ماموں مولا بخش سوار ہیں۔ہم نے بہت سے عامل بلائے مگر کوئی اس رہا تھا۔میں نے اُس سے پوچھا کہ ”بابا تو نے یہ کیا غضب کیا؟“ کہنے لگا۔مولا بخش کو نہ اُتار سکا اب عرض یہ ہے کہ لڑکی کا ملاحظہ ڈاکٹری کرایا جائے اور " مجھے خبر نہ تھی کہ تو مجھے پٹی باندھ کر یوں چار پائی پر قید کر دے گا؟ ڈاکٹر مجھے جھنڈو کو قرار واقعی سزا دی جائے یا اس کی ضمانت لی جاوے کیونکہ معاملہ قابلِ تو خفقان ہے، میں تو نیم دیوانہ ہوں، مجھے تو صدموں نے ہلاک کر دیا ہے۔دست اندازی پولیس ہے۔آخر میں لکھا تھا کہ ”لڑکی کو اس کے والد کے ہمراہ میرے سات جوان بلند و بالا خوبصورت بیٹے تھے اور ساتوں کے ساتوں گزشتہ برائے ملاحظہ طبی بھیجا جاتا ہے۔مطلع فرماویں کہ اس پر جن چڑھا ہوا ہے یا سال کی ہیضہ کی وباء میں ایک ہی دن میں مرگئے۔اب میں بے اولاد ہوں اور نہیں ؟ اور خفیف ہے یا شدید؟ بے عقل، خفقانی ہوں اور پاگل۔میں بھلا عشرہ تک چار پائی پر قید رہ سکتا ہوں۔میں نے اُسے تسلی دی اور مسکن دوا بھی حیران ہوا۔سپاہی سے پوچھا کہ ”جب یہ مارکٹائی کا معاملہ نہیں ہے تو میں پلائی۔پھر پٹی اُس طرح باندھ دی اور آٹھ روز دن رات برابر اُس پر پہرہ ضربات کیا لکھوں؟ میرے محکمہ کو جنات سے کیا واسطہ! وہ احمق کہنے لگا کہ آنکھوں پر پٹی بندھوا کر ہفتہ میں نے جب یہ پڑھا تو پولیس کی رپورٹ لکھنے والے کی عقل پر سخت