آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 29
55 54 ’ جناب ! لڑکی اپنے ماتھے پر عمل کا پیسہ لگنا بیان کرتی ہے۔یہ تو صاف ضرب اس لڑکی کے سر پر چڑھا ہے؟ مگر اس لڑکی نے کسی بات کا جواب نہیں دیا۔آخر کی قسم ہے۔اس کے بعد سے وہ بے ہوش ہے۔اور اس کے سر پر جن بولتا تنگ آکر میں نے ایک بڑی بوتل چوڑے منہ کی لے کر اُس میں ایمونیا کارب ہے۔یہ اس ضرب کا ہی اثر ہے۔آپ جیسا مناسب سمجھیں لکھ دیں۔مجھے فتح AM۔Carb بھرا اور بوتل کا منہ اُس کی ناک پر لگا کر سر کو اس طرح پکڑ لیا محمد مدعی سے بہت زیادہ خود پولیس والوں پر تعجب تھا مگر چونکہ جنات کا معاملہ تھا کہ وہ حرکت نہ کر سکے۔لڑکی نے شروع میں تو بڑی ہمت دکھائی اور کچھ نہ بولی اس لئے میں اُٹھ کر باہر نکلا۔دیکھتا کیا ہوں کہ دس بارہ آدمی سڑک پر ایک مگر آخر تا بگے۔پہلے تو ناک سے پھر آنکھوں اور منہ سے بھی پانی جاری ہو گیا۔چھکڑا لئے کھڑے ہیں اور اس میں ایک جوان مضبوط مسٹنڈی عورت لیٹی ہوئی مجبور ہو کر چیخنے لگی کہ ”چھوڑو چھوڑو میں نے کہا ”نہیں پہلے یہ بتا کہ تو کون ہے جس کی آنکھوں سے وحشت برس رہی ہے۔بہتیرا اُس سے پوچھا گچھا مگر ہے؟ اور کس لئے اس لڑکی کے سر پر چڑھا ہے؟“ وہ کہنے لگا کہ ”میں جن وہ کچھ نہ بولی۔آخر میں نے اُس کے رشتہ داروں سے کہا کہ اسے چھکڑے پر ہوں اور مستمی جھنڈو نے عمل کرا کے ایک منصوری پیسے کو پڑھ کر مجھے اُڑایا ہے۔سے اُتار کر اندر آپریشن والے کمرے میں لے چلو۔چنانچہ دو آدمیوں نے اُس اس عمل کے زور سے وہ پیسہ اس لڑکی کے ماتھے پر آ لگا اور میں اس کے سر پر کا سر پکڑا دو نے پیر درمیان میں کسی نے سہارا بالکل نہیں دیا۔مگر وہ لڑکی ایسی چڑھ گیا۔اب میں اسے چھوڑ نہیں سکتا چاہے تم کچھ بھی کرو“۔میں نے کہا۔سیدھی اور اکڑی رہی گو یا لکڑی کا ایک تختہ ہے۔” بھائی! اس غریب لڑکی کو پکڑنے سے کیا فائدہ؟ تم کسی زبردست سے جا کر غرض ان آدمیوں نے لکڑی کے گندے کی طرح اُسے اُٹھایا کمرے زور آزمائی کرو۔کہنے لگا تو زور لگائے۔میں نے ایک تولیہ لے کر دوا کی میں لے جا کر آپریشن کی میز پر لٹا دیا۔میں نے جب لڑکی کو دیکھا تو پتا لگ گیا بوتل کے منہ کے چاروں طرف اس طرح لگا دیا کہ ناک اور منہ میں تازہ ہوا کہ کس قسم کا جن ہے۔اس کے ساتھی مرد مضبوط اور تندرست زمیندار جاٹ بالکل نہ جا سکے۔اس طرح جب دوا پوری تیزی سے اُس کے دماغ میں کھسی تو تھے۔میں نے اُن میں سے چھ کو انتخاب کر کے باقیوں کو کمرہ سے باہر بھیج دیا وہ عورت بے قرار ہو کر چیخنے لگی۔میں نے کہا۔” یہ ہماری تمہاری زور آزمائی اور یہ کہا کہ ”اب میں اُس جن کو بلانے لگا ہوں تم پوری قوت کے ساتھ میری ہے یا تو اسے چھوڑ کر چلتے بنو نہیں تو میں تم کو زندہ نہیں چھوڑوں گا“۔کچھ لمحہ مدد کرنا اور اسے ہلنے نہ دینا۔چنانچہ ایک آدمی نے ایک ہاتھ لڑکی کا پکڑ لیا صبر کر کے پھر وہ عورت چلائی کہ اچھا اب میں جاتا ہوں۔پھر خاموش ہو دوسرے نے دوسرا۔دونے ٹانگیں اور باقی نے باقی حصہ جسم کا میز پر اپنی پوری گئی۔میں نے آواز دی۔نوری نوری نوری، تو اُس نے کوئی جواب نہ دیا قوت سے دبا لیا تاکہ وہ ذرہ بھی حرکت نہ کر سکے۔اور انہیں سمجھا دیا کہ ”خواہ اُدھر اُس کے پکڑنے والوں نے غلطی سے سمجھ لیا کہ جن اُتر گیا ہے۔انہوں یہ عورت کتنا ہی تڑپے تم اسے ملنے نہ دینا۔ورنہ خطرہ ہے کہ جن اسے چھوڑ کر تم نے اپنی گرفت ڈھیلی کر دی۔گرفت نرم کرنے کی دیر تھی کہ وہ تو سانپ کی طرح پر چڑھ جائے گا۔غرض اس طرح اُس کو چومیخا کر کے میں نے پہلے تو اُس بل کھا کر ان چھ آدمیوں کے ہاتھوں میں سے نکل اُٹھ بیٹھی اور کہنے لگی ” مجھے لڑکی کے ساتھ زور زور سے باتیں کرنی شروع کیں کہ تو کون ہے؟ اور کیوں کون نکال سکتا ہے؟ ہٹ جاؤ۔دُور ہو جاؤ گردن مروڑ دوں گا“۔غرض ایک