آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 27
51 50 کو قتل کر دیا تھا سات یا دس سال کے لئے مع اپنے کنبہ اور عزیزوں کے ملک منہ کے بل اوندھا قبر میں لٹا کر دفن کر دیتے ہیں بظاہر تو یہ کہتے ہیں کہ : ” چمار بدر کیا جاوے۔یہ اُس کی نالائقی ہے کہ وہ چونکہ زنا کار تھا اور عورت زنا کی کی رُوح کہیں بھوت بن کر پھر گاؤں میں واپس نہ آجائے۔اس لئے ہم اُسے سزا میں قتل ہو چکی تھی پھر اُس نے اپنے تئیں کیوں نہ قتل ہونے دیا۔بلکہ الٹا اوندھا دفن کراتے ہیں، مگر دراصل یہ بھی نیچ اقوام کے ذلیل رکھنے کی ایک ترکیب ہے۔اور وہ جاٹ اس لئے وہاں دفن کرتے وقت کھڑے رہتے ہیں کہ قاتل کو قتل کر دیا۔اس واسطے اس کے لئے ضبطی جائداد کے علاوہ چند سال کی جلا وطنی بھی ضروری ہے۔اور جرگوں کے مقدمات میں اسی قسم کے فیصلے کوئٹہ کہیں چہار اپنے مُردہ کو سیدھا دفن نہ کر دیں۔(23) فقیر کا اندوخته بت ایک فقیر سوئی بٹ کے ریلوے اسٹیشن پر بھیک مانگا کرتا تھا۔ایک دن وہ تھرڈ کلاس ویٹنگ روم میں مرا ہوا پایا گیا۔پولیس اُس کی نعش کا ملاحظہ کرانے کے لئے میرے پاس لے آئی۔بیچارہ بڑھا اور مریض سا آدمی تھا۔قدرتی اسباب سے مر گیا تھا۔مگر چونکہ اسٹیشن پر مرا ہوا پایا گیا اس لئے تفتیش ہوئی ضروری تھی۔میں جب لاش خانہ میں گیا تو پوچھا کہ ”اس کے کپڑوں یا جیبوں میں تمباکو یا اور کوئی چیز پائی گئی ہے؟ پولیس والے سپاہی نے کہا کہ سوائے اس دھوتی اور کرتہ کے اس کے جسم پر کوئی کپڑا نہ تھا۔نہ اور کوئی چیز۔خیر یہ کپڑے بھی اُتار دیے گئے اور نعش چیرنے والا ڈسپنسر چاقو لے کر لغش کاٹنے لگا۔اتنے میں میں نے دیکھا کہ مُردے کی پنڈلی پر ایک پٹی بندھی ہوئی ہے خیال ہوا کہ کوئی پرانا زخم ہو گا۔شاید اس سے کوئی وجہ موت کی اور فورٹ منرو وغیرہ میں ہوتے رہتے ہیں۔گویا پرانی مشہور سنگساری والی میزا کے بدلہ وہ ” کالی عورت تلوار سے قتل کی جاتی ہے یا کہہ دیتی ہے کہ مجھے قتل نہ کرو میں خود ہی پھانسی لے لیتی ہوں۔اور فریق ثانی جو مرد ہوتا ہے اس کے لئے بھی مناسب ہے کہ جب عورت کا بھائی یا باپ اُسے قتل کرنے آوے تو ان کو اپنے فعل کے کرنے میں سہولیت بہم پہنچاوے بغیر کالی ہونے کے اعلان کے یعنی کسی مخالف یا دشمن کے کہہ دینے کہ فلاں عورت فلاں مرد سے کالی ہے۔خواہ وہ ساری عمر اپنا منہ کالا کراتی رہے اُس پر کوئی گرفت نہیں ہے یا کالی نامراد ہو کر اگر ایسی عورت اپنی قوم کے تمندار کے دارلخلافہ میں بھاگ کر آجاوے تب بھی اُسے امن مل جاتا ہے اور وہاں پھر اُسے کوئی قتل نہیں کر سکتا۔گویا وہ حرم میں آگئی لیکن ایسا بہت شاذ ہوتا ہے۔(22) پیچ اقوام کی ذلّت جنوبی پنجاب کے ہندو جاٹوں کے دیہات میں ہندو تو مرنے کے معلوم ہو جائے۔میں نے مہتر کو کہا کہ ”پٹی اُتار دے۔کھولتے کھولتے یکدم بعد جلائے جاتے ہیں اور مسلمان دفن کئے جاتے ہیں۔مگر چمار وغیرہ پیچ اقوام میز پر کھنا کھن آٹھ روپے گر پڑے۔زخم قطعاً کوئی نہ تھا۔معلوم ہوا کہ اس کے ساتھ ایک عجیب سلوک کیا جاتا ہے جو نہی کوئی چمار مرجاتا ہے اور اُسے دفن غریب فقیر کی یہی کمائی تھی۔اور اس کی حفاظت کی صورت اس نے یہی نکالی کرنے کے لئے اس کے وارث قبر کھودتے ہیں تو ضروری ہے کہ ایک دو معتبر تھی کہ پنڈلی کے گرد پٹی کے اندر اپنا اثاثہ رکھ کر باندھ لے تا کہ لوگ اسے سمجھیں اور کوئی اس کی جمع پونجی کو چرانہ لے۔بعد میں پوسٹ مارٹم کرنے جاٹ وہاں کے باشندے اس قبر کے پاس موجود رہیں۔پھر اس چمار کی نعش کو