آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 104 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 104

205 204 (115) دوخون نہ کبھی مصیبت تنہا آتی ہے اور نہ کبھی بدقسمتی کہہ کر آیا کرتی ہے۔ایک روز بیٹھے بیٹھے بالکل اتفاقیہ طور پر لاجونتی کا دل لڈو کھانے کو چاہا محلے کا ایک بچہ گھر میں کھیل رہا تھا لا جونتی نے اُسے بُلایا اور بلا کسی خاص خیال کے بالکل معمولی بات سمجھتے ہوئے گھر میں پڑے ہوئے اناج کے ذخیرے میں سے کوئی آدھ سیر کے قریب غلہ لے کر لڑکے کو دیا اور اُس سے کہا کہ ” گاؤں کے حلوائی سے مجھے اس کے لڈو لا دے لڑکا گیا اور تھوڑی دیر میں چھوٹے چھوٹے چھ لڑکے کو غلہ لے جاتے ہوئے اور لڈو لاتے ہوئے اتفاقاً لاجونتی کی گاؤں کی ساری لڑکیوں میں لاجونتی سب سے زیادہ چاق و چوبند، مضبوط اور طاقتور تھی۔زندہ دلی اور خوش مزاجی اُس کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔جب دیکھو سہیلیوں کے ساتھ ہنستی کھیلتی رہتی تھی۔شوقین مزاج بھی بے حد تھی۔اچھا کھاتی اور اچھا پہنتی۔غرض بڑی بے فکری سے اپنی زندگی گزار رہی تھی۔اٹھارہ (18) برس کی عمر ہوئی تو ماں باپ نے ایک کھاتے پیتے گھرانے میں سات لڈو لا کر لاجونتی کے حوالے کر دیئے۔شادی کر دی مگر سُسرال پہنچ کر بیچاری کی ساری زندہ دلی اور شوقین مزاجی ختم ہو گئی۔نہ بولنے کا مقدور تھا نہ بات کرنے کی اجازت۔سسرال والے سارے کے سارے اکھڑ ، بدمزاج اور گنوار کا لٹھ واقع ہوئے تھے۔بولتے تو درشت مزاجی کے ساتھ ، بات کرتے تو سختی سے۔غرض نہ کوئی نرمی سے گفتگو کرنے والا تھا نہ مہربانی کے ساتھ سلوک کرنے والا۔کنبہ بہت سا تھا اور خاندان کے سب لوگ ایک ہی مکان میں رہتے تھے۔لاجونتی زندہ دل اور شوقین مزاج بے شک تھی مگر زبان دراز اور شوخ چشم نہ تھی۔طبیعت نہایت نیک پائی تھی۔بیچاری رہ رہ کر سوچتی تھی کہ ایسے بد مزاج لوگوں میں میری زندگی کس طرح بسر ہو گی؟ تاہم اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ جس طرح بھی بنے گا خندہ پیشانی کے ساتھ ہر مصیبت سہوں گی اور اُف نہ کروں گی۔خاندان کے ہر فرد کی سختی برداشت کروں گی اور شکایت نہ کروں گی۔نند نے دیکھ لیا تھا۔اس نے فوراً جا کر ماں سے کہا کہ آج بھابی نے ذخیرے سے غلہ لے کر لڈو منگائے ہیں۔وہ ہر روز ہی غلہ کے بدلے کچھ کچھ منگاتی رہتی ہیں اور کوٹھڑی میں گھس کر چپکے چپکے کھا لیتی ہیں۔گھر میں جو کچھ ہے اب تو انہی کی تلرز میں اُترے گا۔ہمارے نصیب کا تو اس گھر میں کچھ بھی نہ ہوا۔میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ دھڑی بھر سے زیادہ غلہ انہوں نے کچھمن کے ہاتھ بھیجا اور لڈو منگوائے“۔بیٹی سے یہ سنتے ہی لاجونتی کی ساس آگ بگولا ہو گئی۔بدنصیب بہو نے ابھی پہلا ہی لڈو منہ میں رکھا تھا کہ یہ بلائے بے درماں کی طرح اُس کے سر پر پہنچ گئی اور ایک زور کا دو ہتر لاجونتی کی کمر میں مار کر کہنے لگی کہ ”آج معلوم ہوا کہ یہ غلہ روز بروز کیوں گھٹتا جا رہا ہے؟ یہ تو اس چٹور پن کی بھینٹ گھر والوں کا برتاؤ لاجونتی کے ساتھ شروع ہی سے سختی کا تھا، کوئی چڑھ رہا تھا۔میں بھی حیران تھی کہ آخر یہ غلہ جاتا کہاں ہے؟ اپنے خصم کو آنے اُس سے سیدھے منہ بات نہ کرتا تھا مگر لاجونتی ہر ایک سے خوش اخلاقی سے پیش آتی اور جہاں تک ممکن ہوتا کسی کو اپنے سے شکایت کا موقع نہ آنے دیتی۔غرض دو تین مہینے ہر پٹ کر بُری بھلی طرح بسر ہو ہی گئے۔دے اس چٹورپن کا تجھے کیسا مزا چکھاتی ہوں“۔ساس کا چیچنا سُن کر لاجونتی کی دیورانی بھی دوڑ کر اپنے دالان سے آ گئی اور صورت معاملہ دیکھ کر کہنے لگی ایسا چٹور پن بھی کس کام کا جس سے گھر