آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 10 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 10

17 16 کر اُسے نکالنے لگے تو بوجھ کے مارے نکال نہ سکے۔آخر ایک نے گاؤں جا کر ہوا۔خس کم جہاں پاک جیل کی جمعدارن جب ان عورتوں کے کپڑے لینے اطلاع کی وہ لوگ رہتے اور آدمیوں کو ساتھ لائے۔تب بمشکل ایک عورت اور قفل کھول کر اندر کھسی تو اور ہی تماشا نظر آیا۔مگر ملزمہ مر چکی تھی۔اس کی لاش پانچ اُس کے ساتھ بندھے ہوئے بچے باہر نکالے گئے۔ان بچوں کی لاشوں کے ایک ماہ بعد پھر میرے پاس ہی پوسٹ مارٹم کے لئے وہ سب تو مر چکے تھے مگر عورت بالکل چنگی بھلی تھی۔اتنے میں اُس کا آئی۔اور جب اس کا پیٹ چاک کیا گیا تو رحم کے اندر سے ایک چار پانچ ماہ خاوند اور سوکن بھی خبر پا کر دوڑے ہوئے آئے۔اُن کا رونا پیٹنا نا قابل بیان کے قریب کا بچہ اور نکلا اس طرح سات خون پورے ہو کر یہ ڈراما تکمیل کو پہنچا۔تھا۔گویا اولاد پر جھاڑو پھر گئی تھی۔خیر پولیس کو اطلاع ہوئی اور اب اُن بچوں میرے لئے صرف ایک بات اس واقعہ میں قابلِ تعجب تھی۔وہ یہ کہ کی لاشیں سرکاری لاش خانہ میں تھیں۔جو شخص ایک دفعہ خود کشی کا اقدام کر لیتا ہے اور بچ جاتا ہے وہ پھر دوسری دفعہ میں پوسٹ مارٹم کے لئے وہاں پہنچا۔عورت تو ضلع کے جیل میں تھی خود کشی نہیں کیا کرتا۔یہاں یہ قاعدہ ٹوٹ گیا۔غالباً اس عورت نے دیکھا کہ میں نے اُس وقت اُسے نہیں دیکھا۔لیکن ان پانچ مُردہ بچوں کی قطار سنگدل میرا اب دُنیا میں کوئی ٹھکانا نہیں رہا نہ کوئی ہمدرد۔اور یوں بھی پھانسی ہی ملنی سے سنگدل انسان کے دل کو ہلا دینے کے لئے کافی تھی۔خیر ملاحظہ ہوا اور نتیجہ ہے۔تو چلو اپنے آپ کو خود ہی یہ سزا دے لو۔یا یہ وجہ ہوگی کہ پہلی خودکشی کی یہی نکلا کہ سب کی موت غرقابی سے ہوئی ہے۔عورت پر اقدام خودکشی اور قتل اصلی تمنی اُس نے چکھی نہ تھی یعنی کوئی غوطہ لگا نہ تھا۔بلکہ صحیح سلامت یونہی نکل عمد دونوں جرائم کے مقدمے چلے۔وہ اس وقت جیل میں بند تھی اور ساتھ ہی آئی تھی۔دو اور ملزم عورتیں بھی بند تھیں۔مقدمہ کی پیشیاں ہو رہی تھیں اور عدالت میں لوگ خونی آنکھوں سے اُسے دیکھتے تھے۔خاوند نے اس کے لئے کوئی وکیل کھڑا نہیں کیا۔خود عورت ہر بات کی اقبالی تھی اور بار بار عدالت سے مخاطب ہو کر 1911 ء میں جب امرتسر سول ہاسپٹل میں متعین تھا تو ایک عورت کو یہی کہتی تھی کہ ” مجھے پھانسی چڑھا دو۔” مجھے پھانسی چڑھا دو۔ایک دن یہ اس کے وارث یا شاید پولیس والے میرے پاس اس کی ضربات ملاحظہ کرانے اتفاق ہوا کہ دوسری دونوں عورتیں اپنے جرم سے بُری ہو کر جیل خانہ سے رہا ہو کے لئے لائے۔کسی ناواجب جھگڑے میں اس عورت کے بعض سسرال والوں گئیں۔صرف وہی اکیلی زنانہ وارڈ کے اندر رہ گئی۔جو عورتیں چلی گئی تھیں اُن نے اس کو خوب پیٹا تھا۔میلے اور خون کے بھرے ہوئے کپڑے جن کی بدبو کے سرکاری کپڑے ابھی وہیں اُسی کمرے میں پڑے تھے۔اُس عورت نے اُن سے دماغ پھٹا جاتا تھا۔منہ سارا سُوج کر گیا اور نیلا ہو رہا تھا۔آنکھوں کے کی دونوں چادروں کو تیسری اپنی چادر کے ساتھ ملا کر اور گانٹھ کر ایک لمبا رتہ پپوٹے بوجہ ورم کے کھل نہ سکتے تھے۔سر کے بال خون سے جسے ہوئے تھے۔بنا لیا۔پھر کسی طرح اونچی ہو کر روشندان کی سیخ سے اُس رستے کا ایک سرا باندھ ہونٹ متورم اور منہ سے رال ٹپک رہی تھی۔غرض یہ کیفیت تھی جب میں نے دیا اور دوسرے سرے سے لٹک کر پھانسی لے لی۔اس طرح اس کا قصہ تمام اس کی مکروہ شکل کا تفصیلی معائنہ کیا اور سرٹیفیکیٹ دے کر کہہ دیا کہ مرہم پٹی " (3) کایا پلٹ