آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 9
15 14 " 3966 بچہ دانی میں اتنا بڑا شگاف دیا کہ بچہ اُس میں سے نکل سکے۔یہ عمل کر کے بچہ کو ہاں۔ایک دن چھوٹی کو جو دودھ پالسی کی ضرورت ہوئی تو بڑی کے ہاں مانگنے ماں سے علیحدہ کیا۔پھر چند ٹانکے لگا کر شکم کوسی دیا۔باہر ہری ہر ہری ہر“ گئی۔کیونکہ اس مہینہ میں بڑی بیوی کے پاس بھینس کی باری تھی۔بڑی نے کا وظیفہ اونچی آوازوں سے ہو رہا تھا۔دائی نے نوٹس دیا کہ ”تمہارا کام ہو گیا کچھ بے اعتنائی دکھائی جس سے چھوٹی پر غصہ کا جن سوار ہو گیا۔بس پھر کیا تھا ہے اب میں جا رہی ہوں یہ کہہ کر وہ تو رخصت ہوئی اور مرنے والی اور بچہ کی آتے ہی ایک سکیم تیار کی اور جب بڑی کے تینوں بچے اس کے بچوں سے کھیلنے اتھی تیار ہو کر شمشان بھومی پہنچی اور وہی پچاس روپیہ جس سے غالباً ایک اور دو پہر کے وقت اُس کے گھر آئے تو کہنے لگی چلو آج سب کو جنگل میں جھٹر بیری شاید دو جانیں بھی بچ سکتی تھیں بے موقعہ اور برادری کے خوف سے خرچ ہوا اور کے بیر کھلانے لے چلوں یہ کہہ کر اپنے دونوں اور دوسری کے تینوں بچوں کو ہمراہ لیا اور گاؤں سے باہر چل پڑی سب بچے ہنسی ہنسی بھاگے چلے جا رہے نتیجہ نکلا۔صفر - تک قلق اور صدمہ رہا۔اور ابھی چند ماہ نہ گزرے تھے کہ چند ہزار مزید خرچ کر کے اس گھر تھے کہ گاؤں سے میل بھر پرے ایک کنوئیں پر پہنچے۔وہاں جا کر وہ کہنے لگی کہ میں پھر ایک بہو نظر آنے لگی۔مگر اُن پچاس روپوں کا ساری برادری کو مدتوں آؤ ہم سب ناچیں اور گائیں۔یہ کہہ کر اپنے ساتھ سب کو کنوئیں کی منڈیر پر چڑھایا اور اپنے ہمراہ جو ایک بڑی چادر لائی تھی اُس میں خود اپنے تئیں باندھا۔پھر دائیں طرف چادر کے پلو سے سوکن کے تین بچوں کو اور بائیں طرف کے پلو سے اپنے دونوں بچوں کو باندھ دیا اور کہنے لگی آؤ کو دیں اور (2) سات خون ایک روز ایک پولیس کانسٹیبل تھانہ سے رپورٹ لایا اور کہنے لگا کہ اُچھلیں۔اور آپ بھی کود نے اُچھلنے لگی۔بچے یہی کوئی 3، 4، 5 سال کی عمر کے پانچ لاشیں پوسٹ مارٹم کے لئے آئی ہیں۔میں اُن کو سرکاری نعش خانہ میں تھے وہ بھی کو دنے لگے کہ اتنے میں وہ یکدم دھڑام سے کود کر کنویں کے اندر جا رکھوا آیا ہوں۔میں نے پوچھا۔”کیا کہیں لڑائی ہوئی؟ کہنے لگا ”نہیں خود کشی پڑی اور اُس کے ساتھ بندھے ہوئے سب بچے اندر پہنچ گئے۔وہ گنواں گو کا معاملہ ہے۔میں نے کہا اتنے آدمیوں کی اکٹھی خودکشی" کہنے لگا کہ معطل اور غیر مستعمل تھا مگر اُس میں پانی بہت زیادہ اور گہرا تھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ آپ پولیس کی رپورٹ پڑھ لیں۔اس میں سارا ذکر ہے"۔بچے سارے تڑپ تڑپ کر ڈوب گئے مگر عجیب بات یہ ہوئی کہ اس عورت کے میں نے رپورٹ پڑھنی شروع کی تو معلوم ہوا کہ ایک گاؤں میں جو گھگرے میں اندر کودتے ہوئے ہوا بھر گئی اور وہ گجری کی طرح پانی کے اوپر قریب ہی تھا ایک زمیندار شخص کی دو بیبیاں تھیں۔چونکہ آئے دن اُن میں دنگا گویا کھڑی رہی۔ہوا نے اُسے ڈوبنے نہ دیا کمر تک وہ پانی میں تھی اور باقی فساد رہتا تھا اس لئے اُس نے کچھ مدت سے اُن کو الگ الگ مکان میں رکھ دیا حصہ اوپر۔کچھ دیر کے بعد اُس نے جو بے تحاشا چیچنیں مارنی شروع کیں تو تھا۔بڑی کے تین بچے تھے اور چھوٹی کے دو۔اور وہ شخص اتنا منصف مزاج تھا اتفاقاً کچھ مسافر جو پاس کے ایک راستہ پر سے گزر رہے تھے۔چینیں سُن کر کہ ایک مہینہ بھینس کو بڑی بیوی کے ہاں رکھتا تھا اور ایک مہینہ دوسری کے کنوئیں پر آئے تو دیکھا کہ ایک عورت پانی پر بیٹھی ہے۔وہ اپنی گڑیاں باندھ