آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 96 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 96

189 188 ایک دن اُن کی ایک بیوی ہمارے ہاں آئیں تو اُن کے جسم پر تازہ چالا کیوں، رشوتوں اور جھوٹی گواہیوں سے کام لیا تب مطلب بر آیا۔میں نے عرض کیا ”حضرت یہ تو سب کچھ درست مگر کیا یہ باتیں شرعاً نشانات زد و کوب کے تھے۔کسی نے پوچھا کہ کیا حکیم صاحب آپ سے ناراض ہیں؟ کہنے لگیں، نہیں تو وہ تو بیوی نمبر 2 سے ناراض تھے پوچھنے جائز تھیں؟ فرمانے لگے اور کیا کرتا؟“ اس وقت اُن کے ظاہری تقویٰ کی سب حقیقت ہم پر اور خود اُن پر والے نے کہا ” پھر یہ چوٹوں کے نشان آپ کے جسم پر کیسے ہیں؟“ کہنے لگیں واضح ہو گئی کہ ذرا سا نقصان دیکھ کر یہ بظاہر پارسا لوگ ہر قسم کی ناجائز کہ یہ عدل و انصاف کے نشانات ہیں، اُس نے نہایت تعجب سے پوچھا ” ہیں کارروائی پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔تب پتہ لگتا ہے کہ ان میں صرف ظاہری وہ کیسے؟ اس پر اُنہوں نے کہا کہ حکیم جی جب بھی اپنی کسی بیوی پر ناراض دینداری ہے یا حقیقی پاکیزگی۔یہ ٹھیک ہے کہ اکثر مولویوں اور صوفیوں کا ہوتے ہیں تو اُسے خوب پیٹتے ہیں مگر پیٹنے کے بعد اپنی باقی تین بیویوں کو ظاہری حال پسندیدہ نظر آتا ہے مگر مشکلات، مصائب اور مقدمات کے وقت سامنے بلا کر فرماتے ہیں کہ اب میں جب گھر سے باہر جاؤں گا تو تم تینوں ساری حقیقت کھل جاتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ دُنیا اِس زمانہ میں واقعی بڑی اس کی نقلیں کرو گی اور اسے چڑاؤ گی نیز انصاف کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ جب اصلاح کی محتاج ہے۔بڑی بڑی سلطنتیں صرف امن انصاف اور دُنیا میں اسے مار پڑی ہے تو تمہیں بھی پڑے۔اس لئے اب ادھر میرے پاس آ جاؤ۔اصلاح اور ترقی کی خاطر لڑنے کی دعویدار ہیں مگر پردہ اُٹھا کر دیکھو تو وہی اس کے بعد جس قدر مار پہلی کو پڑی تھی اُتنی ہی مارکوٹ سے باقیوں کی تواضع زمین کی حرص ، قومی برتری، خام مصالحہ کے حصول کی خواہش پر ایک دوسرے فرماتے ہیں۔یہ میرے جسم پر اس عدل و انصاف کے نشانات ہیں۔ناراضگی سے نفرت، ان سب دعوؤں کی پشت پر کارفرما نظر آئیں گی اور اپنے مطلب کے نہیں ہیں۔“ کے حصول کے لئے جھوٹ، رشوت، ظلم اور چالا کی سب شیر مادر ہوں گے۔دُنیا کی حرص و آز میں کیا کچھ نہ کرتے ہیں نقصاں جو ایک پیسے کا دیکھیں تو مرتے ہیں (108) بیویوں میں عجیب اور نرالا انصاف (109) قتل کے بعض عجیب وجوہات جہلم، کیمل پور، رہتک اور فیروز پور وغیرہ کے اضلاع پنجاب میں قتل کے لئے مشہور ہیں۔ذرا ذرا سی بات پر لوگ ایک دوسرے کو مار دیتے ہیں۔ایک دفعہ میں نے ایک پولیس کپتان سے کہا کہ آپ کے ضلع میں قتل بہت ایک میرے دوست تھے۔اب فوت ہو چکے ہیں۔حکیم بلکہ اشتہاری ہوتے ہیں آپ انسداد کریں فرمانے لگے کہ " کیا لوگوں کی جنتی روح کو بالکل حکیم تھے۔ان کی چار بیویاں تھیں۔بیچارے کہیں سے یہ بھی سُن بیٹھے تھے کہ ہی کچل دیا جائے۔جس قدر لوگ ایک دوسرے کو قتل کرنے میں بیباک ہوں شریعت کا حکم ہے کہ جب تم ایک سے زیادہ بیویاں کرو تو عدل و انصاف پر عمل اتنی ہی اُن میں فوجی اسپرٹ ہوتی ہے۔اسی واسطے میرے ضلع کے لوگ بکثرت فوج میں بھرتی ہوتے ہیں۔اگر ان پر سختی کی جائے تو یہ بزدل ہو کرو۔