آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 97
191 190 جائیں پھر ہم فوج کے لئے بھرتی کہاں سے لائیں؟“ میں نے کہا ”یہ خوب صدر مقام جہلم میں جانا شروع کیا۔چند مرتبہ گاؤں سے اُس کی غیر حاضری عذر ہے!! فرمانے لگے ”جب تک لوگ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرتے لوگوں کے نوٹس میں آئی۔تفتیش ہوئی تو پتہ لگا کہ یہ شہر جہلم کو جایا کرتا ہے۔رہیں ہم زیادہ پرواہ نہیں کرتے لیکن جب سرکار انگریزی کے برخلاف کسی کے پھر مزید رپورٹیں ہوئیں کہ وہاں کچہری کے احاطہ میں دیکھا گیا ہے۔اس پر منہ سے ایک لفظ بھی نکلے تو اُس وقت ہم لوگوں کے فرض کی ادائیگی کا وقت ہوتا لوگ کہنے لگے کہ شاید حکام سے ملنے جاتا ہے اور ہمارے برخلاف ضرور کہتا ہے۔ایک دوسرے کو قتل کرنا سلطنت کی مضبوطی میں رخنہ نہیں ڈالتا بلکہ پنجاب سنتا ہو گا۔بعد ازاں معلوم ہوا کہ ایک دن وہ کسی بڑے افسر سے اُس کی کوٹھی کی شجاعت کے قیام کا باعث ہے ہاں کوئی کانگریسی لالہ سرکار کے برخلاف پر ملا ہے۔بس پھر کیا تھا چندلوگوں نے اُس کے قتل کا فتویٰ صادر کر دیا۔دوسرے ایک انگلی بھی اُٹھا دے اُس وقت ہماری ساری مشینری حرکت میں آ جاتی دن گاؤں کا ایک آدمی اُسے بہلا پھسلا کر گاؤں سے باہر لے گیا وہاں کھیتوں میں چند آدمی موجود تھے۔انہوں نے اُس کا کام تمام کر دیا۔نہ کوئی دشمنی نہ ہے۔خیر یہ تو تمہیدی جملہ تھا۔اب اٹک کے ضلع کا ایک واقعہ سناتا ہوں۔عداوت نہ انتقام۔صرف یہ قصور تھا کہ یہ حکام رس ہوتا جاتا ہے کہیں ہم گاؤں ایک شخص کی گائیں کئی روز دوسرے زمیندار کے کھیت میں دیکھی گئیں۔ایک والوں کو کوئی نقصان نہ پہنچائے۔دن جب وہ دونوں اپنے مویشیوں کو شارع عام پر چرا رہے تھے تو ایک نے دوسرے کو کہا کہ آئندہ تیرا مویشی ہمارے کھیت کی طرف نہ آئے ورنہ اچھا نہ ہو گا دوسرے نہ کہا تو کیا کر لے گا؟ ذرا میرے جانور کو ہاتھ لگا کر دیکھ ! (110) مسمریزم اکثر مقامات پر کلبوں اور جلسوں میں میں نے مسمریزم کرنے والوں پہلے نے وہیں سڑک پر اپنی لاٹھی سے جس کے سرے پر نیزے کی طرح کا کے تماشے دیکھے ہیں۔کئی تماشے تو صرف چابکدستی اور ہوشیاری کے کھیل ہوتے ہیں لیکن کئی جگہ اصل مسمریزم بھی ہوتا ہے اور مسمرائزر اپنے ساتھ ایک لڑکا بطور معمول“ رکھتا ہے، جس پر توجہ ڈال کر وہ باتیں پوچھتا ہے۔ایک دفعہ ایک کلب میں سب افسر لوگ بیٹھے ہوئے ایسے ہی تماشے پھل لگا ہوا تھا ایک گول نشان بنا دیا یعنی دائرہ کی طرح ایک لکیر کھینچ دی اور کہا ”اچھا یہ میرے کھیت کا نشان ہے تو ذرا اس میں اپنا مویشی داخل تو کر دوسرے نے جھٹ اپنا ایک پیر بڑھا کر اپنی جوتی اُس دائرہ کے اندر رکھ دی اور کہا ”لے میرا مویشی تیرے کھیت میں داخل ہو گیا“ یہ سنتے ہی پہلے نے اپنا دیکھ رہے تھے کہ تماشے والے نے کہا ”صاحبان! آپ اپنے دل میں کسی نیزہ اُٹھا کر فوراً اس زور سے اپنے مخالف کی چھاتی میں مارا کہ سینہ تو ڑ کر پار ہو پھول کا خیال کریں۔اس کے بعد اُس نے کہا کہ ڈپٹی صاحب آپ نے موتیا گیا اور وہ شخص وہیں ڈھیر ہو کر رہ گیا۔کا پھول دِل میں رکھا ہے۔تحصیلدار صاحب آپ نے چنبیلی کا پھول۔کپتان اب ایک دوسرا قصہ جہلم کے ضلع کا سُنیئے وہاں ایک گاؤں میں ایک صاحب آپ نے نرگس کا پھول“ وغیرہ وغیرہ۔سب لوگ یہ بات دیکھ کر نوجوان شخص جب کچھ لکھ پڑھ کر فارغ ہوا تو اس نے گاہے بگاہے ضلع کے متعجب ہوئے۔وہاں صاحب ڈپٹی کمشنر بھی موجود تھے۔انہوں نے کوئی پھول