آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 8
13 12 گے آپ تشریف لے جائیں۔9966 اور ایک گھنٹہ کے بعد واپس آکر کہنے لگا کہ شہر کی سب دائیوں کے پاس پھر میں اپنی فیس جیب میں ڈال کر چلا آیا۔رات تھوڑی سی باقی تھی اس آیا ہوں کوئی اس پاپ کی حامی نہیں بھرتی کہ پیٹ چاک کر کے بچہ باہر نکالے وجہ سے انتظار میں جاگتے ہی گزری کہ وہ لوگ اب آتے ہوں گے، اب آتے اور پھر پیٹ کو سی دے۔ہاں وہ جو ایک مسلمان دائی پہلے ہسپتال میں کام کیا ہونگے ، مگر نہ آئے صبح کو میں شفاخانہ کے کام میں مصروف ہو گیا۔دو پہر ہو گئی کرتی تھی اُس نے کہا ہے کہ میں یہ کام کردوں گی۔لیکن لیکن لیکن۔۔تو اُن کا پھر بھی کوئی پتہ نہ تھا۔آخر شام کو خبر لگی کہ برادری نے کثرت رائے پچاس روپیہ دینے ہوں گئے۔یہ سُن کر ساری برادری سناٹے میں آگئی اور سے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ”پچاس روپیہ بہت بڑی فیس ہے ہم نے ایسی گراں رقم ہے رام ہے رام ” ہے رام کا غلغلہ بلند ہوا۔بطور فیس کے کسی ڈاکٹر کو لیتے نہیں سنی۔بعض نے کہا کہ ”موت زندگی تقدیر ایک اب کیا ہوگا۔اس سے تو پچاس روپیہ ڈاکٹر ہی کو دے دیے ہوتے۔کے ہاتھوں ہے۔ایک صاحب بولے کہ ”سب کرموں کا پھل ہے جو کچھ ہوگا اب دو جانیں گئیں اور پھر بھی اتنا ہی ڈنڈ باقی ہے۔ہے پر میشر ! دیکھا جائے گا۔بچہ جو ہمارا تخم ہے وہی اگر خطرہ میں ہے اور نہ بیچ سکے تو بہو دوسرا: بھئی دیر ہوتی ہے۔اونے پونے کسی طرح اُسے راضی کرو کب کے بچنے کا جو غیر کی لڑکی ہے ہمیں کیا فائدہ ہو گا۔غرض بہت کا میں کائیں تک مُردے کو گھر میں رکھ کر پاپ کماتے رہو گے۔ہو کر معاملہ ملتوی ہو گیا۔مگر قدرت تو اپنا عمل پورا کر کے چھوڑتی ہے رفتہ رفتہ سب یک زبان ہو کر : ہاں بھائیو! اب تو کچھ بھی ہو۔اس پاپ مریضہ کمزور اور بدحواس ہوتی گئی۔آخر دن کو دس بجے اُس نے پران چھوڑ سے چھوٹنا ضروری ہے۔جا بھئی منی رام تو جا اور دیکھ وہ دائی کچھ کم کر دے دیئے۔اب تو موت ہو گئی تھی بقایا برادری بلکہ سارا شہر جمع ہو گیا اور مُردہ تو لے آ۔جلانے کے لئے ارتھی تیار ہونے لگی کہ اتنے میں ایک پنڈت بولا۔ایک پنڈت جی بولے: ارے یار کم کرنے یا نہ کرے تو اُسے لیتا ہی پنڈت جی بھائیو! یہ چھوکری بھرشٹ ہے۔ہم اسے جلا نہیں آئیو۔گرمی کا موسم ہے۔اب جلدی بندوبست کرنا چاہیے۔سکتے۔جب تک اس کے پیٹ کے اندر بچہ ہے۔بچہ نکلے گا تو شاستروں کی رُو سے یہ مسان میں جلنے کے قابل ہوگی۔دوسرا برہمن:۔ہاں جی ہاں پنڈت جی نے بالکل سچ فرمایا۔شاستر ارتھ یہی ہے۔اس پر سب پنڈتوں نے اتفاق رائے سے گھر والوں کو مجبور کیا کہ آخرمنی رام جی گئے تو دائی نے رقم کم کرنے سے بالکل انکار کر دیا مجبور ہو کر کہنے لگے۔چل بھاگوان چل جو تو مانگے گی ہم دیں گے۔وائی پنڈت جی مہربانی کر کے پینکی پچاس روپیہ یہاں رکھ دیں تو حاضر ہوں ورنہ کہیں اور سے بندوبست کر لیں۔پنڈت جی پھر بڑ بڑاتے ہوئے گھر آئے۔سب واقعہ سُنا کر پچاس کسی دائی کو بلا کر بچہ ماں سے علیحدہ کیا جائے۔مجبوراً مرنے والی کا سر اُٹھا روپے لے کر دائی کے ہاں پہنچے اور اس کی فیس ادا کی اس کے بعد دائی صاحبہ تشریف لائیں۔ایک چاقو جیب سے نکال کر اور رومال ناک پر رکھ کر پیٹ اور