عالمی فتنۂ تکفیر سے متعلق — Page 13
حضرت سید عبدالقادر جیلانی ، حضرت داتا گنج بخش ، حضرت نظام الدین اولیاء ، حضرت شاہ ولی الله اور حضرت فرید الدین شکر گنج سے اہل اللہ اور صوفیا کر سکتےہیں جو اسلام کا پتا پھرتا نمونہ تھے گر پیشہ ور ماؤں اور ان کے سر پرست نام نہاد مسلمان حکمرانوں کا عملی نمونہ تو ایسا گھناؤنا اور مکروہ ہے کہ کفر بھی مارے شرم کے اپنا منہ چھپا لیتا ہے اور شیطان کی پیشانی بھی عرق انفعال سے تر ہو جاتی ہے۔پاکستان کے سابق وزیر قانون مسٹر اے کے بروہی نے ٹھیک ہی تو کہا تھا کہ :۔درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔دنیا ہماری بد اعمالیوں کو دیکھ کہ اسلام کے بارے میں رائے قائم کرتی ہے۔میرا خیال یہ ہے کہ اگر آج ہم اسلام سے علیحدگی کا اعلان کر دیں تو یورپ کا بڑا حصہ حلقہ بگوش اسلام ہو سکتا ہے۔جب وہ اُن لوگوں کو دیکھتے ہیں جن پر اسلامی ممالک کا لیبل لگا ہوا ہے تو اُن کے قدم اسلام کی طرف بڑھنے سے رک جاتے ہیں۔اشاعت اسلام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہم خود ہیں۔۔۔۔۔۔اسلام اور اسلامی کلچر کا جتنا مذاق ہم نے اڑایا ہے شاید آنا کسی اور نے نہیں اڑایا۔۔۔۔۔۔جس قوم کی ابتدا طاؤس و رباب سے ہو اُس کی انتہا کیا ہو گی ؟ د ملاقاتیں - از الطاف حسن من۵۵) -144 (بحوالہ اسلام اور عصر رواں منا ۱۷ از ڈاکٹر غلام جیلانی برق ) ۲۔کہتے ہیں الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔رسالہ ترجمان اسلام میں ایک نام نہاد خطیب ملت و امام المہنت نے اس ضرب المثل کے مطابق تضحیک دو تو ہین انبیاء کا الزام احمدیوں کے سر تھوپنے کی ناکام کوشش بھی فرمائی ہے۔اس حرکت کے نتیجہ میں ہم ذیل یں ان فقہ پر و علم کے ان شرمناک بتانات کی طرف اشارہ میں ہی کرنے پر مجبور ہیں جو خدا کے مقدس انبیاء پر باندھے گئے ہیں۔ملاحظہ فرمائیے۔در حضرت آدم نے شرک کیا اور ابلیس کے کہنے پر عبد الحارث کا مشرکانہ نام رکھا۔جلالین، معالم التنزیل، تغیر قادری موسومه به غیر سینی)