آخری اتمام حُجّت

by Other Authors

Page 7 of 46

آخری اتمام حُجّت — Page 7

بے شک یہ کہیں کہ اگر میں چھوٹا ہوں تو لعنۃ اللہ علی الکاذبین گر مولوی ثناء اللہ صاحب تو صرف عدالتوں میں ہمیشہ روزانہ قسم کھائی جانے والی قسم کی طرح قسم کھانے پر آمادگی ظاہر کرتے ہیں۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رسالہ قادیان کے آریہ اور ہم میں بالتقابل قسم مؤکد بہ لعنت کے لیے لکھا تھا اور یہ واضح کر دیا تھا کہ یہ عدالتوں والی قسم نہیں ہوگی جو دو دو آنے لیکر لوگ کھا لیتے ہیں بلکہ بالمقابل قسم ہوگی اور وہ بھی جھوٹوں پر لعنت کی دعا کے ساتھ ہوگئی نا پتہ لگے کہ خدا بھی ہے۔(۵) پھر اس پرچہ میں مولوی ثناء اللہ صاحب نے یہ بھی لکھی :- " بے شک الفاظ مباہلہ مقرر ہو چکے ہیں جن پر ہم نے تمہارے ہی منقولہ مضمون میں خط دیدیا ہے جن کو تم نے بھی منظور کر لیا ہے " یہ عجیب بات ہے کہ اس عبادت میں مولوی ثناء اللہ اپنے قسم کے الفاظ کو الفاظ مباہلہ قرار دے رہے ہیں حالانکہ اسی پرچہ میں وہ یہ لکھ چکے ہیں۔} میں نے حلف اٹھا نا کہا ہے مباہلہ نہیں کہا نہ میں نے لفظ اللہ علی الکاذبین کہنا لکھا تھا قسم اور ہے مباہلہ اور ہے قسم کو مباہلہ کہنا آپ جیسے راستنگوؤں کا ہی کام ہے اور کسی کا نہیں ؟ اخبار اہل حدیث 19 اپریل شاہ کالم اسطر) کیا یہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی دورنگی نہیں کہ وہ اپنی قسم کے الفاظ کو مباہلہ کے الفاظ بھی کہہ رہے ہیں حالا نکہ اسی مضمون میں با لمقابل قسم کو ایڈیٹر بر حضرت مرزا صاحب کی منظوری والے مضمون کے جواب میں اس کو مباہلہ قرار دینے پر معترض بھی ہیں اور اسے راست گوئی کے خلاف قرار دے رہے ہیں اور خود اسی مضمون میں یہ بھی لکھ چکے ہیں۔مباہلہ اس کو کہتے ہیں جو فریقین مقابلہ پر قسمیں کھائیں (اخبار الحدیث و دراپریل تا صدا کالم ) پس مقابلہ پر ایسی قسم کھانے کے لیے مولوی ثناء اللہ صاحب آمادہ بھی نہیں تھے جو دعائے لعنۃ اللہ علی الکاذبین کے ساتھ کھائی جائے اور اپنی قسم کے الفاظ کو الفاظ مباہلہ بھی کہ رہے تھے اور سے ار ALL صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں " کا مصداق بن رہے تھے۔مولوی ثناء اللہ صاحب نے وار اپریل شاہ کا پرچہ ۱۲ اپریل شاہ کو ایک ہفتہ پہلے شائع کر دیا تھا میں کو 19 وہ پیشگی زکوۃ نکالنے کی طرح قرار دے چکے ہیں۔یہ پرچہ ۱۲ اپریل شاہ کو جاری ہوگی ۱۳ کو نہیں تو ما را پر یل را کو قادیان پہنچا ہو گا۔جب یہ پرچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظر سے گزرا تو اس سے آپ یہی تاثر ہے سکتے تھے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب بظاہر یہ کہتے ہیں کہ وہ مباہلہ سے ڈرتے نہیں لیکن در حقیقت وہ اس مباہا ملاحظہ ہو حاشیہ پرچہ اہل حدیث ۱۹ را پریل شید : معدت میں سفر سے آیا تو ۱۲ را پریل کشاء کا اخبار مرتب تھا اور مرزا صاحب کے مباہلہ کا جواب جلد دنیا تھا اس لیے وا کا بھی اسی ہفتہ تیار کیاگیا امید ہے اس جمع تقدیم کو تقدیم زکوۃ پر نیاس فرمائیں گے۔ایڈیٹر فه اه مولوی ثناء اللہ صاحب کا یہ فقرہ با پله کا جواب دنیا مختصا“ کا مضمون به سلسله مباله ی خونی مگرافسوس کہ مولوی تھانے کو بعد میں نظر نہ کیا اور جواب ہیں وہ اس مائلہ سے فرار کر گئے۔کیوں کہ وہ جان چکے تھے کہ نہیں سیالہ کے لیے بلایا گیا تھا میں سے وہ پہلے بھی جان بچاتے رہے۔(قاضی محمد نذیر لائلپوری )