آخری اتمام حُجّت

by Other Authors

Page 6 of 46

آخری اتمام حُجّت — Page 6

لیکن مباہلہ اس کو کوئی نہیں کتنا " ر اختیار اہلحدیث مذکور صبہ کالم سطر ۲۱ تا ۲۵) دیکھئے اس عبارت میں مولوی ثناء اللہ صاحب مباہلہ سے فرار اختیار کر رہے ہیں حالانکہ ۲۲ جون شاہ کے ریہ اہلحدیث میں وہ قل تعالوا نزاع ابناءنا الآية کے مطابق مباہلہ پر آمادگی ظاہر کر پچکے ہوئے تھے ، لیکن جب قسم کے ساتھ دعائے مباہلہ لعنۃ اللہ عل الکا زمین کرنے کی تقریب پیدا ہو گئی تو وہ عدالتوں والی قسم کھانے پر تو آمادگی ظاہر کرتے ہیں اور مباہلہ سے جان بچانا چاہتے ہیں پھر ڈنگ مارتے ہوئے 19 را پریل شاہ کے پرچہ اہلحدیث تک میں سو ۱۲ را پریل شاہ کو شائع کر دیا تھا یہ بھی لکھتے ہیں:۔(۳) یہ نہیں کہ آپ سے مباہلہ کرنے سے ڈرتا ہوں معاذ اللہ جب میں آپ کو محض خدا کے واسطے ایک مفسد اور دجال جانتا ہوں نہ کہ اب بلکہ سالہا سال سے تو میں آپ سے مباہلہ سے کیوں کر ڈر ) اخبار مذکور صلہ کالم اسطره ) سکتا ہوں۔سوچنے کی بات ہے اگر ڈرتے نہیں تو قادیان آگرہ زبانی مباہلہ کے لیے کیوں آمادہ نہ ہوئے جب کہ قادیان میں اگر مباہلہ کیلئے آنے پر نوزاد راہ دیئے جانے کابھی مسیح موعود علی اسلام کی طرف سے اعلان ہو چکا تھا۔پھر مولوی صاحب آگے لکھتے ہیں :۔(س) میں نے حلف اٹھانا کہا ہے مباہلہ نہیں کہا نہ میں نے لعنۃ اللہ علی الکاذبین کہنا لکھا تھا قسم اور ہے مباہلہ اور ہے قسم کو مباہلہ کہنا آپ جیسے راستگوؤں کا ہی کام ہے اور کسی کا نہیں ؟ رضے کالم ۲) دیکھیئے لالہ ملد وائل وغیرہ سے قسم کے ساتھ جھوٹے پر امنت ڈالنے کا مطالبہ تھا ویسی ہی قسم کھانے کو مولوی ثناء اللہ صاحب کو کہا گیا تھا مگر مولوی صاحب اس پر آمادہ نہ ہوئے کیونکہ لعنة اللہ علی الکاذبین والی دعا اس مقابلہ کو مباہلہ بنا دیتی تھی جس سے دراصل ان کی جان جاتی تھی۔پس ان کا مباہلہ والی دعائے لعنة اللہ علی الکاذبین سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بالمقابل ڈرنا ظاہر ہے۔مولوی ثناء اللہ صاحب اسی پریچہ میں بالآخر یہ لکھتے ہیں:۔اسی (۳) سردست تو جہاں سے بات چلی ہے وہ یہ ہے کہ آپ کے کہنے کے مطابق دیکھیو الحکم ) مارچ شاہ ہم قسم کھانے کو تیار ہیں قسم کے الفاظ بھی ہم نے لکھ دیئے ہیں اور آپ نے منظور کمر لیے ہیں باقی فضول " مولوی ثناء اللہ صاحب کا یہ بیان غلط ہے کہ قسم الفاظ بغیر لفا اللہ علی الکا مبین کی دعا کے منظور کر لیے گئے تھے کیونکہ اخبار بدر میں منظوری کی اطلاع دیتے ہوئے انہیں لکھا گیا تھا۔