آخری اتمام حُجّت — Page 8
والی قسم کھانے پر آمادہ بھی نہیں حالانکہ لعنۃ اللہ علی الکاذبین کی دعا کے ساتھ قسم کھانے کی منظوری انہیں آپ کی طرف سے دی گئی تھی لہذا ان کے مباہلہ سے ڈر کو واشگاف کرنے کے لیے دار اپریل شاہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نئے مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ والا مضمون ان کے نام بطور کھلی چٹھی کے شائع فرما دیا۔اس میں آپ نے اپنی طرف سے دعائے مباہلہ شائع فرما دی۔دعا کا مضمون یہ تھا کہ کا ذب صادق کے سامنے ہلاک ہو جائے اور اس کھلی چٹھی کے آخر میں لکھا کہ :۔بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ میں اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے “ لکھدیں گویا اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی ثناء اللہ صاحب کو اس فیصلہ کی طرف بلایا کہ جھوٹا سچے کی زندگی میں دعا کے ذریعہ ہلاک ہو۔اس پر مولوی ثنا اللہ صاحب نے یہ مضمون اپنے ۲۶ اپریل شاء تم ملحدیث کے پر درج کیا۔اور اس سے پہلے صفحو پر کرشن جی جان چھڑاتے ہیں کے عنوان سے لکھا :۔کرشن جی نے خاکسار کو مباہلہ کے لیے بلایا جس کا جواب اہلحدیث و ر ا پریل شاہ میں مفصل دیا گیا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ میں حسب اقرار خود تمہارے کذب پر حلف اٹھانے کو تیار ہوں بشرطیکہ تم یہ بتا دو کہ اس حلف کا نتیجہ کیا ہوگا۔اس کے جواب میں کرشن جی نے ایک اشتہار دیا ہے جو لقول شخصے سوال از آسمان جواب از رلیمانی اپنی اس عبارت میں مولوی ثناء اللہ صاحب کو اعتراف ہے کہ انہیں مباہلہ کے لیے بلایا گیا تھا مگروہ اس کے جواب میں مباہلہ کی بجائے صرف کذب پر حلف اٹھانے کو تیار تھے وہ بھی اس شرط کے ساتھے کہ انہیں پہلے بتا دیا جائے کہ اس حلف کا نتیجہ کیا ہو گا۔سو جب ۱۸ اپریل شاہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی طرف سے دعائے مباہلہ شائع کرادی اور مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھے آخری فیصلہ کرنا چاہا جس کے لیے بقول مولوی ثناء اللہ صاحب انہیں بلایا گیا تھا ور اسی لیے انہیں فہمائش کی گئی تھی کہ وہ اس مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں تو یہ دعا کے ذریعہ طریق فیصلہ سوال از آسمان جواب از ریماں تو نہ ہوا البتہ مولوی صاحب کی محض عدالتوں میں کھائی جانے والی قسم کی طرح لعنۃ العلی الکاذبین کی دعا کے بغیر قسم کھانے پر آمادگی انہیں مباہلہ پریپیڈیا جانے کا صیح جواب نہ تھا بلکہ ان کا یہ جواب واقعی سوال از آسمان جواب از رلیماں کا مصداق تھا اور اس سے ثابت ہو رہا تھا کہ ان کی ۲۲ جون شتہ کے اہلحدیث میں دو شخصوں کے مجبور کرنے پر مباہلہ پر آمادگی بھی محضر - ایک دکھاوا تھا۔کیونکہ بعد میں جب انہیں مباہلہ کے لیے بقول ان کے بلایا گیا تو انہوں نے جواب میں لکھ دیا تھا کہ : - آگے چل کر مولوی صاحب کی نا منظوری سے ظاہر ہو گا جان وہ خود چھڑاتے ہیں۔کیونکہ وہ جان چکے تھے کہ یہ دوا حضرت مرزا صاحب کی