آخری اتمام حُجّت — Page 21
ہے کہ وہ قسم کھا کر ان الفاظ کے ساتھ بیان کرے کہ یہ انسان کا افتراء ہے خدا کا کلام نہیں وَلْعْنَةُ اللهِ عَلَى مَن كَذَّبَ وَحْيَ اللهِ اگر کوئی شخص ایسی قسم کھا وسے تو خدا تعالیٰ اس قسم کا نتیجہ ظاہر کر دے گا۔چاہیے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب اور جعفرز ٹی لاہوری اور ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب اور غزنوی صاحبان بہت جلد اس کی طرف توجہ کریں " مولوی ثناء اللہ صاحب اور ان کے ساتھی اعلان بار دوم کے متعلق اس وضاحت کر دیئے جانے کے بعد بھی مقابلہ کے لیے آمادہ نہ ہوئے اور ان کے علاوہ نام کے ساتھ مخاطب کردہ دوسرے لوگوں میں سے کوئی آمادہ نہ ہوا اور نہ ہی ان کا کوئی اور ہمرنگ اس دعوت پر مقررہ الفاظ میں قسم کھانے پر آمادہ ہوا۔لہذا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہر دو اعلانات تمام مسلمانوں اور آریوں اور عیسائیوں پر بطور آخری حجت کے انہیں زیر الزام لا ہے ہیں میں یہ دعوت حضرت مسیح موعود کی طرف سے مولوی شاء الہد اور دیگر مخالفین کیلئے آخری امام حجت ہے۔۱۵ را پریل شاہ والے اشتہار کے اس اعلان میں مولوی ثناء اللہ صاحب کو منی طب کرنا اور اپنے الہام کے متعلق خود دعائے لعنة الله على من افترى على الله " 19۔5 کالعدم ہونے کا روشن ثبوت کے الفاظ کے ساتھ قسم کھا کر انہیں لعنة الله على من كذب وحی اللہ کے الفاظ میں قسم کھانے کی دعوت دینا اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ ۱۵ اپریل شاه والا اشتہار مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ " مولوی ثناء اللہ صاحب کے اسے نامنظور کر دینے کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک بھی کالعدم ہو چکا تھا۔اسی لیے تو آپ کو اب ایک دوسری دعوت مولوی ثناء اللہ صاحب کو اس اعلان سونیا پڑی لہذا جو شخص بالفرض ۵ در اپریل شاہ والی دعائے مباہلہ کو یکطرفہ دعا بھی سمجھت ہو اس اعلان بار دوم کے بعد وہ ۱۵ را پریل شاہ والے بیان کردہ طریق فیصلہ کو قائم قرار نہیں دے سکتا ، بلکہ دانشمندی کا تقاضا یہی ہونا چاہیئے کہ وہ اسے کالعدم سمجھے کہ آپ کے العام إلى أحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّرَارَ وَاحَافِظُكَ خاصة کے متعلق چینج کی طرف توجہ کرے اور یہ سمجھے لے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مباہلہ کرنے کے لیے در حقیقت دل سے کبھی تیار نہیں ہوئے وہ لوگوں کے مجبور کرنے پر ضر ورفع الوقتی کے لیے کہ دیا کرتے تھے کہ میں مباہلہ کرنے سے ڈرتا نہیں ورنہ در حقیقت مباہلہ کی دعوت پر ان کو جان جانے کا خوف لاحق ہو جاتا تھا اور وہ جیلوں اور بہانوں سے جان چھڑا لیتے تھے، لیکن یہ آخری دعوت ایک خاص الہام کے متعلق ایسی دعوت ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی طرف سے لعنۃ اللہ کی دعاء کے ساتھ قسم کھا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب وغیرہ اور ان کے سب ہم رنگوں کو