آخری اتمام حُجّت

by Other Authors

Page 20 of 46

آخری اتمام حُجّت — Page 20

اس کے جواب میں مولوی ثناء اللہ صاحب آخری شرط کے متعلق کہہ سکتے تھے کہ مجھے تو ملهم من اللہ ہونے کا کوئی دعویٰ نہیں لہذا میرے لیے ایسا العام بطور افتراء شائع کرنے کی کیوں قید لگائی گئی ہے گر معلوم ہوتا ہے کہ مولوی ثناء اللہ یہ سمجھتے تھے اگر میں نے ایسا لکھا، تو حضرت مرزا صاحب میرے لیے اس شرط کو حذف کر دیں گے اور پھر مجھے دعاء لَعْنَةُ اللهِ عَلى مَن كَذَّبَ وَحْى الله کے الفاظ میں حلف اٹھانا پڑے گی اور چونکہ خود حضرت مسیح موعود علیه السلام لعْنَةُ الله عَلَى مَنِ افْتَرَى عَلَى الله کے الفاظ میں حلف اُٹھا چکے ہیں اس لیے اس طرح مباہلہ وقوع میں آ جائے گا جس سے میں اب تک بچتا رہا ہوں اس لیے انہوں نے اس اعلان بار دوم کے متعلق اس شرط کے حذف کرانے کے لیے نہ لکھا ، مگر اس اعلان بار دوم کو پڑھ کر بعض لوگوں نے کسی احمدی سے کہا کہ ہم مفتری نہیں ہیں جو خداتعالی پر افتراء کریں ہم کس طرح ایسا الهام شائع کر سکتے ہیں توحضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس پر مولوی ثناء اللہ صاحب اور ان کے ساتھ کے مخاطبین کے لیے اس شرط کو حذف فرما دیا، ذیل میں سائل کے سوال اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جواب درج کر دیتے ہیں جو بدر اار جولائی منہ میں فیصلہ کی آسان راہ" کے عنوان کے تحت شائع ہوا۔فیصلہ کی آسان راہ "ایک صاحب نے حضرت کی خدمت میں ذکر کیا کہ حضور کی اس تحریہ چیچڑ اخبار میں چھپی ہے کہ اگر کوئی مکذب ہمارے شائع کرده الهام اللي كو كہ انى الحافظ كل من في الدار افتراء سمجھتا ہے اور یقین کرتا ہے کہ محض ہم نے اپنے دل سے یہ بات بتائی ہے اور یہ خدا کا کلام نہیں جو ہم پر نازل ہوا ہے اور صرف اتفاقی طور پر ہمارے گھر کی حفاظت ہو۔رہی ہے تو چاہیے کہ ہمارے مذبوں میں سے بھی کوئی ایسا الہام شائع کرے تب اس کو جلد معلوم ہو جاؤں گا کہ افتراء کا کیا نتیجہ ہے اس بات کو پڑھ کر بعض مخالف یہ کہتے ہیں کہ ہم مفتری نہیں ہیں جو خدا تعالیٰ پر افتراء کریں ہم کس طرح ایسا الہام شائع کر سکتے ہیں۔حضرت نے فرمایا یہی بات ہے جو ہم ان کو سمجھانا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر افتراء کر کے کوئی شخص بچ نہیں سکتا اگر یہ کلام ہم پر خدا تعالیٰ کی طرف نازل نہ ہوتا اور ہمارا افتراء ہوتا تو اللہ تعالٰی اس کلمہ کے مطابق ہمارے گھر کی حفاظت کیوں کرتا جب کہ ایک کلام صریح الفاظ میں پورا ہو گیا تو پھر اس کے ماننے میں کیا شک ہے لیکن ہم نے مخالفین کے واسطے فیصلہ کی دوسری راہ بھی بیان کر دی ہے کہ جو شخص یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ یہ انسان کا افتراء ہے تو اسے لازم