آخری اتمام حُجّت — Page 22
۲۲ دعوت مباہلہ دی تھی مگر کوئی بھی ان میں سے اس مباہلہ کے لیے آمادہ نہ ہوا یہ بات اس الہام کے خدا کی طرف سے ہونے کی روشن دلیل ہے جس طرح نجران کے عیسائی وفد کا رسول مریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں مباہلہ سے فرار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صادق ہونے کی روشن دلیل ہے۔ہے اس جگہ میں اپنی جماعت کے دوستوں کو یہ مشورہ دینا چاہتا ہوں جماعت احمدیہ کو مشورہ کی ان علماء کے فرار کے بعد اب جماعت احمدیہ کوکسی بھی مخالف شخص کو مباہلہ کی دعوت دینے کی ضرورت نہیں رہی کیونکہ مدعی الهام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ان کے زمانہ کے مخالف علماء آپ کے مقابل لعنة الله کی دعا کے ساتھ قسم کھانے سے فرار اختیار کر چکے ہیں اور ان کے فرار سے احقاق حق خوب ہو چکا ہے۔ہاں اگر جماعت احمدیہ کو کوئی مولوی وغیرہ مباہلہ کی دعوت دے تو انہیں کہیں کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ السلام اپنے اس الہام کے متعلق قسم مؤکد بہ لعنت کھا چکے ہوئے ہیں اس لیے آج بھی جسے مباہلہ کا شوق ہو وہ آپ کی قسم کے بالمقابل اس دعوت کے مرقومہ الفاظ میں قسم کھا کہ یہ تجربہ کرلے کہ خدا کس کے ساتھ ہے۔ایسا شخص ضرور ایسی قسم کھا کر خدا تعالی کی قمری بجلی کا مشاہدہ کرلے گا۔انشاء اللہ تعالٰی۔مکرم حضرت مفتی محمد صادقی ایڈیٹر بدر نے الیون کو شائع ہونے والے خط میں ایک غلط فہمی کا ازالہ در اصل اسی اعلان باردوم والی دعا کا ذکر کیا تھا نہ کہ ۱۵ را پریل شاشه والی کی دعا کا یہ دعا 4 جون کے بدر میں شائع ہوئی اور مولوی ثناء اللہ صاحب کے خط کا جواب ۱۳ر جون شاہ کو شائع کیا گیا تھا لہذا مشیت ایزدی سے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی طرف سے دعا کئے جانے کا جو ذ کر اس خط میں ہے وہ دعا 4 جون شلیہ والی دعا مباہلہ ہے نہ کہ ۱۵ را پریل شاہ والی دعا جو مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ والے اشتہار میں تجویز کی گئی تھی اور جسے مولوی ثناء اللہ صاحب نے فیصلہ کن نہ جان کر اس کی منظوری دینے سے انکار کر دیا تھا اور لکھا تھا ، یہ تحریر تمہاری مجھے منظور نہیں اور نہ کوئی دانا ایسے منظور کر سکتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اسے کا لعدم جانتے ہوئے مولوی ثناء اللہ صاب کو اعلان بار دوم میں آخری دعوت دے کر ان پر اور تمام مخالفین پر حجت قائم کر دی تھی جو آپ کی طرف سے آخری اتمام حجیت ہے۔اگر حضرت میں موجود اسے کالعدم نہ مجھے تو نئے اعلان میں قسم کھانے کی دعوت نہ دیتے۔اہل حدیثوں کی محمدیہ پاکٹ بک ہیں ، چونکہ اس کے محمدیہ پاکٹ بک میں ایک غلط بیانی مصنف پر یہ واضح تھا کہ امام جنب دعوة التاع