آخری اتمام حُجّت — Page 12
۱۲ ان کی طرف سے نامنظوری کے بعد لوگوں کے لیے حجت نہیں ہو سکتی تھی کیونکہ اگر مولوی ثناء اللہ صاحب کی وفات حضرت مسیح موعود عل السلام سے پہلے ہو جاتی تو ان کے ہم خیال کر سکتے تھے کہ ہم اس وجہ سے مولوی شاء اللہ صاحب کو جھوٹا نہیں کہہ سکتے کیونکہ اس طریق کو اپنے جواب میں انہوں نے فیصلہ کن نہیں جانا تھا اور یہ کہ اس طریق فیصلہ کو قبول کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ :- یہ تحریر تمہاری مجھے منظور نہیں اور نہ کوئی دانا اس کو منظور کر سکتا ہے؟ راہل حدیث ۲۶ / اپریل صلا ۱۹ئ) پھر مولوی ثناء اللہ صاحب نے یہ لکھ کر بھی اس کے حجت ہونے کو ریڈ کر دیا تھا کہ :۔اس مضمون کو بطور الهام شائع نہیں کیا بلکہ یہ کہا ہے کہ یہ کسی الہام یا وحی کی بنا پر پیشگوئی نہیں بلکہ محض دعا کے طور پر ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اگر تم مرگئے تو تمہارے دام افتادہ حسن کم جہاں پاک " کہ کمر یہ عذر کریں گے کہ حضرت صاحب کا یہ الہام نہیں تھا بلکہ محض دعا تھی۔یہ بھی کہ دیں گے دعائیں تو بہت سے نبیوں کی بھی قبول نہیں ہوئی۔اہل حدیث ۲۶ را پریل شاشه حدت کالم اول ) میرا مقابلہ تو آپ سے ہے اگر میں مرگیا تو میرے منے سے اور لوگوں پر کی محبت ہو اور پھر آگے لکھا تھا :- سکتی ہے۔۔) اخبار مذکور مث کالم اول ) اس سے ظاہر ہے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے دعا کو کسی صورت میں بھی نہ احمدیوں کے لیے محبت جانا تفا نہ غیر احمدیوں کے لیے اور ان وجوہ اور ایسی ہی اور وجوہ سے اس کو ماننے سے انکار کر D دیا تھا اور اس کی منظوری نہ دے کر اسے محبت ہونے میں مؤثر نہ رہنے دیا تھا۔ایک شبہ کا جواب جمعیت اہل حدیث جھیل خانووانہ ضلع لائل پور نے ۵ار اپریل شاہ کا اشتہار مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ کی عبارت اپنے ایک اشتہار میں درج کر کے اور مولوی ثناء اللہ صاحب کی اس کے متعلق نا منظوری کو از را و خیانت بیان نہ کر کے لکھا ہے :۔پورے دس دن بعد مرزا صاحب نے آخری فیصلہ کے متعلق یہ بیان دیادہ ثناء اللہ