آخری اتمام حُجّت

by Other Authors

Page 11 of 46

آخری اتمام حُجّت — Page 11

جھوٹے، دنا باز مفسد اور نافرمان لوگوں کو لمبی عمریں دیا کرتا ہے تا کہ وہ اس مہلت میں اور بھی بڑے کام کر لیں۔پھر تم کیسے من گھڑت اصول بتلاتے ہو کہ ایسے لوگوں کو بہت عمر نہیں ملتی کیوں نہ ہو دھوئی تو مسیح، کرشن اور محمد احمد بلکہ خدائی کا ہوا اور قرآن میں یہ لیاقت ذَالِكَ مُبْلَغُهُم مِن العلم “ نائب ایڈیٹر مولوی ثناء اللہ صاحب نے اپنے نائب ایڈیٹر کے اس بیان کے متعلق لکھا ہے : - میں اس کو صحیح جانتا ہوں " اخبار اہل حدیث اس جولائی شار صت ) 9 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا در اصل یہی عقیدہ تھا کہ مباہلہ کرنے والوں میں سے جھوٹا پیچے کی زندگی میں ہلاک ہوتا ہے چنانچہ آپ فرماتے ہیں :۔یہ کہاں لکھا ہے کہ جھوٹا پیچھے کی زندگی میں مرجاتا ہے ہم نے تو دیکھا ہے کہ مباہلہ کر نے والوں میں سے جو جھوٹا ہو وہ پیچے کی زندگی میں مرجاتا ہے کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سب اعداد ان کی زندگی میں ہلاک ہو گئے تھے ہزاروں اعداء آپ کی وفات کے بعد زندہ رہے، ہائی چھوٹا مباہلہ کرنے والا بیچے کی زندگی میں ہلاک ہوا کرتا ہے۔ایسے ہی ہمارے مخالف بھی ہمارے مرنے کے بعد زندہ رہیں گے۔15193 ایسے اعتراض کرنے والے سے پوچھنا چاہیئے ہم نے کہاں لکھا ہے کہ بغیر مباہلہ کرنے کے ہی جھوٹے بیچے کی زندگی میں تباہ اور ہلاک ہو جاتے ہیں ؟ (اخبار المحکم قادریان ۱۰ اکتوبر سنشه) اس عبارت سے قطعی طور پر ثابت ہے کہ اشتہار مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ میں جو دعا شائع کی گئی وہ حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی طرف سے بطور مسودہ دعائے مباہلہ کے ہی شائع کی گئی تھی، لہذا جب مولوی ثناءاللہ صاحب نے اس کے جواب میں یہ لکھ دیا کہ تمہاری یہ تحریر مجھے منظور نہیں، تو یہ مباہلہ وقوع میں نہ آسکا اور یہ اشتہار اس بنا پر مولوی ثناء اللہ صاحب کے ایسے فیصلہ کن نہ قرار دینے کی وجہ سے مولوی ثناء اللہ صاحب کے مباہلہ سے فرار کا ایک اور ثبوت بن گیا۔یہیں جب یہ اشتہار مباہلہ وقوع میں نہ آنے کی وجہ سے محبت اور فیصلہ کن نہ رہا اور کالعدم ہو گیا تو خدا تعالیٰ نے اس کے بعد حضرت میں موعود علیہ اسلام کوآپ کے الہام قرب اجلك المقدرمندرجہ رسالہ الوصیت کے مطابق وفات دیدی اور مولوی ثناء اللہ صاحب کو کئی مسلمہ اصل کے مطابق کہ خدا تعالیٰ جھوٹے ، دنا باز وان مفید اور نافرمان لوگوں کولمبی عمریں دیا کرتا ہے۔تاکہ وہ اس مہلت میں اور کبھی بڑے کام کر لیں (اہل حدیث ہر پریل قصہ مانی) عبی ملت دیدی کہاں تک کہ انہوں نے جماعت احمدیہ کی اکناف عالم میں نمایاں ترقی دیکھیکہ وفات پائی۔یہ ظاہر ہے کہ اشتہار مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ ان کے وار اپریل عشاء والے پرچہ کے درجو پیشگی ۱۷ را پریل کومولوی صاحب نے شائع کر دیا تھا جواب میں ہی تھا اگر بالفرض مولوی ثناء اللہ صاحب اسے یکطرفہ دعا ہی جانتے تھے تو تب بھی یہ دعا 19۔5