آخری اتمام حُجّت — Page 13
کے متعلق جو گھا گیا ہے یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد گئی ایک دفعہ ہماری توجہ اس کی طرف ہوئی اور رات کو توجہ اس کی طرف تھی اور رات کو الہام ہوا کہ اجنب دعوة الداع (میں نے دعا قبول کر لی ہے صوفی کے نزدیک بڑی کرامت استجابت دعا ہی ہے باقی سب اس کی شاخیں ہیں ؟ " ) اخبار پدر ۲۵ اپریل شده ) آگے لکھتا ہے :۔ہمارا بھی ایمان ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی یہ دعا یقینا قبول ہوئی۔اسی اخبار" بدر" نے اطلاع دی کہ مرزا صاحب مورخہ ۱۲۶ مئی 9 کو بروز منگل قریباً ساڑھے دس بجے دن کے یہ مرض ہیضہ اس طرح کہ ایک بڑا دست آیا اور نبض بالکل بند ہو گئی۔ر اخبار بدر ۲ جون نشاء ۳۰ کالم )) جمعیت مذکورہ نے ان ہر دو عبارتوں میں یہودیانہ تحریف سے کام لیا ہے۔بدر ۲ جون شد سے اگر جمعیت مذکور بہ مرض ہیضہ کے الفاظ دکھا دے تو اسے پانچ صد روپیہ انعام دیا جائے گا اور اگر نہ دکھا سکے اور وہ ہرگز نہیں دکھا سکے گی تو صاف ظاہر ہے کہ جمعیت مذکورہ نے اخبار بدر" کا حوالہ پیش کرنے میں تحریف کی ہے اور صریح جھوٹ سے کام لیا ہے۔اسی طرح پہلی عبارت میں بھی سخت تحریف سے کام لیا ہے۔بدر ۲۵ را پر بل شاہ کی تحریر میں ہرگزنہ آخری فیصلہ والے اشتہار کا کوئی ذکر نہیں اور نہ ثناء اللہ کے لفظ سے پہلے وہ کا لفظ موجود ہے جو آخری فیصلہ والے اشتہار کے مضمون کی طرف اشارہ کر رہا ہو اور آگے بند کی بجائے جو کچھ کے لفظ موجود ہیں۔" بدر" میں یہ ۱۴ را پریل شاہ کی ڈائری شائع ہوئی ہے۔یہ تعریف اس لیے کی گئی ہے کہ ان الفاظ کا تعلق مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ والے 10 اپریل شاہ والے اشتہار سے ظاہر کیا جائے حالانکہ اس میں شفاء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا ہے سے مراد ہماراپریل سکنہ سے پہلے کی تحریریں ہیں جو مباہلہ کے متعلق لکھی گئی تھیں کیونکہ یہ عبارت ۱۴ را پریل کی ڈائری کی ہے جو ۲۵ را پریل کشش کے پرچہ میں دس دن بعد شائع ہوئی اس ڈائری کا تعلق ہرگز ه ا ر ا پریل شاہ والے مولوی ثناء اللہ صاحب کے آخری فیصلہ والے مضمون نہیں۔بلکہ اس عبارت کا تعلق مولوی ثناء اللہ کے مباہلہ کے متعلق ہم از اپریل شاہ سے پہلے لکھی گئی تحریروں سے