آخری اتمام حُجّت

by Other Authors

Page 10 of 46

آخری اتمام حُجّت — Page 10

}۔کو نا منظور کر کے اسے کالعدم قرار دیدیا اور اس طرح اسے فیصلہ کن اور محبت نہ رہنے دیا اور صرف قسم کھانے پر آمادگی ظاہر کردی گھر جس قسم کھانے کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منظور کیا جا چکا تھا اس میں تو یہ فہمائش بھی تھی کہ یہ قسم لا لعنة الله على الکاذبین کی دعا کے ساتھ کھائی جائے اور یہ مباہلہ کی صورت تھی نخود مولوی ثناء اللہ صاحب پر چہ اہل حدیث ۲۶ اپریل شاہ ص پر لکھ چکے ہیں۔کرشن جی نے خاکسار کو مباہلہ کے لیے بلایا جس کا جواب اہل حدیث 19 اپریل شاه ) جو در اصل ۱۲ اپریل شاہ کو شائع ہوا تھا۔ناقل) میں مفصل دیا گیا " گویا مباہلہ سے انکار کر دیا کیونکہ وہ واب یہ تھا کہ میں نے قسم اٹھانا کہا ہے مباہلہ نہیں کہا نہ میں نے لعنة علی الکاذبین کہنا لکھا تھا۔ملاحظہ ہو اہل حدیث وار اپریل نشاء صف کالم اول سطر - اب جب مولوی صاحب نے اشتہار ۵ار اپریل شاہ کو اپنی نا منظوری سے کا لعدم کر دیا اور صرف قسم کھانے پر ہی آمادگی کا اظہار کیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی سمجھ لیا کہ یہ طریق فیصلہ بھی بذریعہ اس دعا گئے کاذب صادق پہلے ہلاک ہو جائے۔مولوی ثناء اللہ صاحب کی نا منظوری کی وجہ سے کالعدم ہوگیا ہے اور اب مخالفوں کے لیے محبت نہیں ہوسکتا کیونکہ اگر بالفرض مولوی ثناء اللہ صاحب پہلے وفات پا جائیں تو مولوی صاحب کے ہوا خواہ اہل حدیث کہ سکتے تھے کہ ہمارے لیے مولوی صاحب مرزا صاحب سے پہلے مرجانا ان کے جھوٹا ہونے کی دلیل نہیں کیونکہ انہوں نے تو ۲۶ اپریل نشاء پرچہ اہلحدیث میں مرزا صاحب کے اس طریق فیصلہ کونا منظور کر دیا تھا اور صرف قسم کھانے پر آمادگی ظاہر کی تھی اور صاف لفظوں میں یہ لکھ دیا تھا کہ تمہاری یہ تحریر مجھے منظور نہیں۔اہل حدیث کے نائب ایڈیٹر کی طرف ہواور اپریل شاہ کے اہلحدیث کے حاشیہ فیصلہ خدائی بر مسلمات ثنائی منہ پر حضر مسیح موعود علیہ صب پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ ثناءاللہ والے مضمون کے جواب میں یہ بھی لکھدیا گیا تھا: آپ اس دعوی میں قرآن شریف کے صریح خلاف کہہ رہے ہیں قرآن تو کتنا ہے بدکاروں کو خدا کی طرف سے صحت ملتی ہے سنو ! مَنْ كَانَ فِي الضَّلَةِ فَلْيَمْدُ لَهُ الرَّحْمَنُ مَدّام مہلت (ع) اور اِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزدادوا تاج ربٍ ، وَيَمُدُّ هُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ 0 ( ) وغیرہ) آیات تمہارے اس دجل کی تکذیب کرتی ہیں اور سنو ابلُ مَتَّعْنَا هؤُلَاءِ وَآبَاءَ هُمْ حَتَّى طَالَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ ع ) جن کے صاف یہ معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ الیز دادو کے لفظ میں نام عاقبت سے مرادیہ ہے کہ مدت تو خدا اصلاح کے لیے دیتا ہے لیکن نتیجہ وہ گناہ میں پڑھتے ہیں پس خدا در اصل بڑے کام کرنے کے لیے مہلت نہیں دیتا۔(قاضی محمد نذیر) N 14