آخری اتمام حُجّت

by Other Authors

Page 9 of 46

آخری اتمام حُجّت — Page 9

" افسوس ہے کہ میں نے تو قسم کھانے پر آمادگی ظاہر کی ہے مگر آپ میا للہ کہتے ہیں۔مباہلہ اس کو کہتے ہیں جو فریقین مقابلہ پر قسمیں کھائیں - اخبار اہل حدیث ۱۹ را پریل ساده ) واضح ہو کہ اس مقابلہ میں تو فریقین کا ہی قسم کھانا مطلوب تھا نہ کہ مولوی ثناء اللہ صاحب سے میل فر قسم کھانے کا مطالبہ تھا، ہر حال ۲۶ را پریل شاہ کے پرچہ میں مولوی ثناء اللہ صاحب نے اعتراف کر لیا ہے کہ انہیں مباہلہ کے لیے ہی بلایا گیا تھا مگر وہ بجائے مباہلہ کے صرف قسم کھانے پر آمادہ تھے اور لعنۃ اللہ علی الکاذبین کی دعا اس قسم کے ساتھ مانگنے کے لیے وہ تیار نہ تھے جیسا کہ ان کے پرچہ اہل حدیث ۱۹ اپریل شاہ سے ظاہر ہے اُسے کہنا چاہیے " مولوی ثناء اللہ کا مباہلہ سے جان چھڑانا مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو نہیں چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھے، اس لیے آپ نے ۱۸ اپریل شہداء کو اپنی طرف سے دعا مباہلہ شائع کرادی تا اگر وہ مباہلہ سے واقعی نہیں ڈرتے تو اس طریق فیصلہ کو قبول کرلیں، ورنہ اس طریق فیصلہ کا انکار کر دیں تا ان کا مباہلہ سے جان چھڑانا اور فرار بالکل واضح ہو جائے یہ بات آپ نے مولوی ثناء اللہ صاحب کی مرضی پر چھوڑ دی تھی ، اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھدیں" کے فقرہ کا مطلب یہی تھا کہ یادہ فیصلہ کا یہ طریق جو خدا کے حضور دعا میں پیش کیا گیا ہے مان لیں یا اس کا انکار کردیں۔مان لیں گے تو مباہلہ واقع ہو جائے گا اور نہ مانیں گے تو ان کا انکار صاف طور پر الم نشرح ہو جائے گا۔مولوی ثناء اللہ صاحب کا مولوی ثناء اللہ صاحب نے اس فیصلہ والے مضمون کو اپنے ۲۶ اپریل مشاہ کے پرچہ میں درج کرنے کے بعد جو جواب دیا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس دعا کی اشتہار کی منظوری سے انکار منظوری مجھ سے نہیں لی اور بغیر میری منظوری کے اس کو شائع کر دیا ہے ، اگر میں مرگیا تو میرے مرنے سے اور لوگوں پر کیا محبت ہو سکتی ہے آپ مر گئے تو تمہیں ماننے والے کہدیں گے دعائیں تو نبیوں کی بھی قبول نہیں ہوئیں۔تمہاری یہ دعا کسی صورت میں فیصلہ کن نہیں ہو سکتی۔آپ نے لکھا تھا کہ خدا کے رسول رحیم وکریم ہوتے ہیں اور ان کی ہر وقت یہی خواہش ہوتی ہے کہ کوئی شخص ہلاکت اور مصیبت میں نہ پڑے گر اب کیوں آپ میری ہلاکت کی دعا کرتے ہیں؟ پھر مت کالم اول میں صاف طور پر جان چھڑانے کے لیے اس طریق فیصلہ سے انکار کر تے ہوئے لکھا کہ:۔مختصر یہ کہ میں تمہاری درخواست کے مطابق حلف اُٹھانے کو طیار ہوں اگر تم اس حلف کے نتیجے سے مجھے اطلاع دو اور یہ تحریر تمہاری مجھے منظور نہیں اور نہ کوئی دانا اس کو منظور کر سکتا ہے؟ ) اہلحدیث ۲۶ ر ا پریل ششه ) اس سے ظاہر ہے کہ مولوی صاحب نے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے پیش کردہ اس دعا کے طریق فیصلہ