عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 224
عائلی مسائل اور ان کا حل کا گولہ پیٹ میں بھرنے دیں اور لڑائیوں کو طول دینے اور نظام جماعت سے متعلق جگہ جگہ باتیں کرنے کی بجائے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس تعلیم پر عمل کریں کہ سچے ہو کر جھوٹے کی طرح تذلل اختیار کرو۔اللہ تعالیٰ سب میں یہ حوصلہ پیدا فرمائے اور ہر ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے والا بن جائے۔لیکن یہاں میں عہدیداران خاص طور پر امراء کے لئے ایک بات کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ ان مغربی ممالک میں جیسا کہ میں اپنے جلسے کی تقریر میں ذکر کر چکا ہوں عائلی یا میاں بیوی کے جھگڑوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور یہ جھگڑے ایسی نوعیت اختیار کر جاتے ہیں کہ علم ہونے اور ہمدردی ہونے کے باوجو د نظام جماعت بعض پابندیوں کی وجہ سے کچھ نہیں کر سکتا۔کیونکہ بعض صورتوں میں ملکی قانون ایک فریق کو حق پر نہ ہونے کے باوجود کے شرعی حقوق کی وجہ سے بعض حق دے دیتا ہے۔اس لئے ایسے مرد جو ظلم کر کے اپنی بیویوں کو گھروں سے نکال دیتے ہیں۔یہ بھی نہیں دیکھتے کہ موسم کی شدت کیا ہے۔پھر ایسے ظالم باپ ہوتے ہیں کہ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ اس موسم کی شدت میں ماں کی گود میں چند ماہ کا بچہ ہے تو ایسے لوگوں کے خلاف نظام جماعت کو عورت کی مدد کرنی چاہئے۔پولیس میں بھی اگر کیس رجسٹر کروانا پڑے تو کروانا چاہئے۔یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ ہم جماعت میں فیصلہ کر لیں گے اور باہر نہ نکلیں۔بعد میں اگر فیصلہ جماعت کے اندر کیا 224