عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 118
عائلی مسائل اور ان کا حل عورت کے حقوق بحوالہ حق مہر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانہ جرمنی 2011ء میں احمدی خواتین سے ارشاد فرمایا: بعض لڑکوں سے بڑی بڑی رقمیں حق مہر رکھوا لیا جاتا ہے کہ کونسا ہم نے لینا ہے۔یا یہ کہہ دیتی ہیں ہم نے حق مہر معاف کر دیا۔اگر لینا نہیں تو یہ بھی جھوٹ ہے۔حق مہر مقرر ہی اس لئے کیا جاتا ہے کہ عورت لے اور یہ عورت کا حق ہے ، اُس کو لینا چاہئے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک صحابی نے کہا که حق مہر میری بیوی نے واپس کر دیا ہے۔معاف کر دیا ہے۔آپ نے کہا کہ جا کے پہلے بیوی کے ہاتھ پر حق مہر رکھو، پھر اگر وہ واپس کرتی ہے تب حق مہر معاف ہوتا ہے۔نہیں تو نہیں۔بے چارے کی دو بیویاں تھیں۔خیر انہوں نے قرض لے کر جا کر جب دونوں کے ہاتھ میں برابر کا حق مہر رکھ دیا اور کہا کہ واپس کر دو، تم معاف کر چکی ہو۔انہوں نے کہا ہم تو اس لئے معاف کر چکی تھیں کہ ہمارا خیال تھا کہ تمہیں دینے کی طاقت نہیں ہے اور تم نہیں دو گے۔تو کیونکہ اب تو تم نے دے دیا ہے تو دوڑ جاؤ۔وہ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس آئے تو آپ بڑے ہنسے اور آپ نے کہا ٹھیک ہے، ایسا ہی ہونا چاہئے تھا۔(خطبہ جمعہ فرمودہ 24 جولائی 1925ء۔خطبات محمود جلد 9 صفحہ 217 مطبوعہ ربوہ ) حق مہر کی اہمیت کے حوالہ سے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: 118