عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 117
عائلی مسائل اور ان کا حل دے گا تو وہ زانی ہے اور جس کسی نے قرض اس نیت سے لیا کہ ادانہ کرے گا تو میں اسے چور شمار کرتا ہوں۔(مجمع الزوائد جلد 4 صفحہ 131) اب دیکھیں حق مہر ادا کر نامرد کے لئے کتنا ضروری ہے۔اگر نیت میں فتور ہے تو یہ خیانت ہے، چوری ہے“۔(خطبہ جمعہ فرموده 16 فروری 2004ء بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن) ( مطبوعہ خطبات مسرور جلد دوم صفحہ 111۔ایڈیشن 2005ء مطبوعہ نظارت اشاعت ربوہ ) حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز حق مہر کی ادائیگی کے ضمن میں مزید فرماتے ہیں: بعض دفعہ دوسروں کی باتوں میں آکر یا دوسری شادی کے شوق میں، جو بعض اوقات بعضوں کے دل میں پیدا ہوتا ہے بڑے آرام سے پہلی بیوی پر الزام لگا دیتے ہیں۔اگر کسی کو شادی کا شوق ہے، اگر جائز ضرورت ہے اور شادی کرنی ہے تو کریں لیکن بیچاری پہلی بیوی کو بد نام نہیں کرنا چاہیئے۔اگر صرف جان چھڑانے کے لئے کر رہے ہو کہ اس طرح کی باتیں کروں گا تو خود ہی خلع لے لے گی اور میں حق مہر کی ادائیگی سے (اگر نہیں دیا ہوا ) تو بچ جاؤں گا تو یہ بھی انتہائی گھٹیا حرکت ہے۔اول تو قضا کو حق حاصل ہے کہ ایسی صورت میں فیصلہ کرے کہ چاہے خلع ہے حق مہر بھی ادا کر و۔دوسرے یہاں کے قانون کے تحت، قانونی طور پر بھی پابند ہیں کہ بعض خرچ بھی ادا کرنے ہیں“۔(خطبہ جمعہ فرمودہ 10 نومبر 2006ء بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن مطبوعه الفضل انٹر نیشنل یکم دسمبر 2006ء) 117