عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 119
عائلی مسائل اور ان کا حل تو حق مہر لینے کے لئے ہوتا ہے، حق مہر معاف کرنے کے لئے نہیں ہوتا اور یہ عورت کا حق ہے کہ لے۔جنہوں نے معاف کرنا ہے وہ پہلے یہ کہیں کہ ہمارے ہاتھ پر رکھ دو۔پھر اگر اتنا کھلا دل ہے، حوصلہ ہے تو پھر واپس کر دیں۔بہر حال جب حق مہر زیادہ رکھوائے جاتے ہیں تو جب خلع طلاق کے فیصلے ہوتے ہیں تو قضا کو یہ اختیار ہے کہ اگر کسی شخص کی حیثیت نہیں ہے اور ناجائز طور پر حق مہر رکھوایا گیا تھا تو اس حق مہر کو خود مقرر کر دے اور یہ ہوتا ہے۔بعض ایسے بھی ہیں جو عدالت میں اپنے مفادات لے لیتے ہیں اور لے لیتی ہیں، لڑکیاں بھی اور لڑکے بھی، اور پھر اس کے بعد کہتے ہیں ہمارا شرعی حق یہ بنتا تھا۔پھر جماعت میں بھی آجاتے ہیں۔اگر شرعی حق بنتا تھا تو پھر شرعی حق لو یا قانونی حق لو۔بعض دفعہ قانونی حق شرعی حق سے زیادہ ہو جاتا ہے اس لئے بہر حال حق ایک طرف کا ہی لینا چاہئے۔ظلم جو ہے وہ نہیں ہونا چاہئے۔ایک فریق پر زیادتی نہیں ہونی چاہئے۔نہ لڑکے پر ، نہ لڑکی پر۔پھر اس کے لئے جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے۔پس یہ ایسے کراہت والے کام ہیں کہ ان کو دیکھ کر ایک شریف شخص کراہت کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا“۔(جلسه سالانه جر منی خطاب از مستورات فرمودہ 25 جون 2011ء مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 13 / اپریل 2012ء) طلاق کی صورت میں پیدا ہونے والے جھگڑوں کے ضمن میں حق مہر کی ادائیگی کے بارہ میں حضور ایدہ اللہ فرماتے ہیں: بعض عائلی جھگڑے ایسے آتے ہیں کہ کہا جاتا ہے کہ نہ میں تمہیں 119