عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 62 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 62

عائلی مسائل اور ان کا حل اس کے بعد کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں اعلیٰ اخلاق پر قائم رہنے کے طریقے بھی سکھا دیئے۔یہ بھی بتا دیا کہ میرے سے تعلق رکھنا ہے تو اُن اعلیٰ اخلاق کو اپناؤ جن کا اللہ اور اس کار سول حکم دیتا ہے۔ہمیں سوچنا چاہئے کہ اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے کے بعد جبکہ ہمیں مخالفتوں کا سامنا اس لئے ہو رہا ہے کہ تم نے کیوں اس شخص کو مانا جو کہتا ہے کہ میں مسیح موعود نبی اللہ ہوں۔احمدیت قبول کرنے کے بعد بعض لوگوں کو اپنے رشتہ داروں سے بھی بڑی تکلیف اٹھانی پڑی۔اپنوں نے بھی رشتے توڑ دیئے۔باپوں نے اپنے بچوں پر سختیاں کیں اور گھروں سے نکال دیا۔اس لئے نکال دیا کہ تم نے احمدیت کیوں قبول کی۔تو اس صورتحال میں ایک احمدی کو کس قدر اپنے رشتوں کا پاس کرنا چاہئے۔ہر ایک کو یہ سوچنا چاہئے کہ اس شخص سے منسوب ہونے کے بعد جس کا نام خدا تعالیٰ نے سلامتی کا شہزادہ رکھا ہے ہمیں کس قدر سلامتی پھیلانے والا اور رشتوں کو مضبوط کرنے کی کوشش کرنے والا ہونا چاہئے۔پس ہر احمدی کو اپنے اندر یہ احساس پیدا کرنا چاہئے کہ ہم سلامتی کے شہزادے کے نام پر بٹہ لگانے والے نہ ہوں۔اگر ہم اپنے رشتوں کا پاس کرنے والے، ان سے احسان کا سلوک کرنے والے، ان کو دعائیں دینے والے، اور ان سے دعائیں لینے والے نہ ہوں گے تو ان لوگوں سے کس طرح احسان کا سلوک کر سکتے ہیں، ان لوگوں سے کس طرح احسان کا تعلق بڑھا سکتے ہیں، ان لوگوں کا 62