عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 61
عائلی مسائل اور ان کا حل کر رہے ہوں گے ، ایک دوسرے کے قریبیوں سے اچھے اخلاق سے پیش آرہے ہوں گے ، ان کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہوں گے تو ظاہر ہے کہ میاں بیوی دونوں میں آپس میں بھی محبت اور پیار کا تعلق خود بخود بڑھے گا۔ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی پوری کوشش کریں گے تو فرمایا کہ قربت کے رشتوں کی یعنی رحمی رشتوں کی حفاظت کر رہے ہو گے تو پھر تم میرے پسندیدہ ہو گے“۔(خطبہ جمعہ فرمودہ 23 جنوری 2004ء۔خطبات مسرور جلد 2 صفحہ 64 تا 65۔ایڈیشن 2005ء مطبوعہ نظارت اشاعت ربوہ ) میاں اور بیوی کے قریبی رشتہ داروں و قرابت داروں کے احترام کے حوالے سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک موقع پر فرمایا: کئی جھگڑے گھروں میں اس لئے ہو رہے ہوتے ہیں کہ ایک دوسرے کے رشتہ داروں کے لئے عزت اور احترام نہیں ہوتا۔میاں اور بیوی کے سب سے قریبی رشتہ دار اس کے والدین ہیں۔جہاں اپنے والدین سے احسان کے سلوک کا حکم ہے وہاں میاں اور بیوی کو ایک دوسرے کے والدین سے بھی حسن سلوک کا حکم ہے۔بعض دفعہ خاوند زیادتی کر کے بیوی کے والدین اور قریبیوں کو برا بھلا کہتے ہیں اور بعض دفعہ بیویاں زیادتی کر کے خاوندوں کے والدین اور قریبی رشتہ داروں کو برا بھلا کہہ رہی ہوتی ہیں۔تو احمدی معاشرے میں جس کو اللہ اور رسول الی کا حکم ہے کہ سلامتی پھیلاؤ، اس میں یہ باتیں نہیں ہونی چاہئیں۔اس کے بعد کہ ہم نے زمانے کے امام کو مان لیا، 61