عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 63 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 63

عائلی مسائل اور ان کا حل کس طرح خیال رکھ سکتے ہیں جن سے رحمی رشتے بھی نہیں ہیں“۔(خطبه جمعه فرموده یکم جون 2007ء مطبوعه الفضل انٹر نیشنل 22 جون 2007ء ) صلہ رحمی : رشتہ داروں کے حقوق صلہ رحمی کے ضمن میں رشتہ داروں کے حقوق بیان کرتے ہوئے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: صلہ رحمی بھی بڑا وسیع لفظ ہے اس میں بیوی کے رشتہ داروں کے بھی وہی حقوق ہیں جو مرد کے اپنے رشتے داروں کے ہیں۔ان سے بھی صلہ رحمی اتنی ہی ضروری ہے جتنی اپنوں سے۔اگر یہ عادت پیدا ہو جائے اور دونوں طرف سے صلہ رحمی کے یہ نمونے قائم ہو جائیں تو پھر کیا کبھی اس گھر میں تو نکار ہو رہو سکتی ہے ؟ کوئی لڑائی جھگڑا ہو سکتا ہے؟ کبھی نہیں۔کیونکہ اکثر جھگڑے ہی اس بات سے ہوتے ہیں کہ ذرا سی بات ہوئی یا ماں باپ کی طرف سے کوئی رنجش پیدا ہوئی یا کسی کی ماں نے یا کسی کے باپ نے کوئی بات کہہ دی، اگر مذاق میں ہی کہہ دی اور کسی کو بری لگی تو فوراً ناراض ہو گیا کہ میں تمہاری ماں سے بات نہیں کروں گا، میں تمہارے باپ سے بات نہیں کروں گا۔میں تمہارے بھائی سے بات نہیں کروں گا پھر الزام تراشیاں کہ وہ یہ ہیں اور وہ ہیں تو یہ زودرنجیاں چھوٹی چھوٹی باتوں پر ، یہی پھر بڑے جھگڑوں کی بنیاد بختی ہیں"۔(خطبہ جمعہ فرمودہ 2 جولائی 2004ء بمقام انٹر نیشنل سنٹر ، مسی ساگا، کینیڈا مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 16 جولائی 2004ء) 63