عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 55 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 55

عائلی مسائل اور ان کا حل حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانہ برطانیہ کے موقع پر بچوں کی تعلیم و تربیت سے متعلق خاص طور پر نصائح فرماتے ہوئے اس ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا درج ذیل اقتباس بھی پیش فرمایا: ” حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: میری اپنی تو یہ حالت ہے کہ میری کوئی نماز ایسی نہیں ہے جس میں میں اپنے دوستوں اور اولاد اور بیوی کے لئے دعا نہیں کرتا۔بہت سے والدین ایسے ہیں جو اپنی اولاد کو بری عادتیں سکھا دیتے ہیں۔ابتداء میں جب وہ بدی کرنا سیکھنے لگتے ہیں تو ان کو تنبیہ نہیں کرتے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دن بدن دلیر اور بے باک ہوتے جاتے ہیں۔۔۔۔یادر کھو کہ اس کا ایمان درست نہیں ہو سکتا جو اقرب تعلقات کو نہیں سمجھتا، جب وہ اس سے قاصر ہے تو اور نیکیوں کی امید اس سے کیا ہو سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اولاد کی خواہش کو اس طرح پر قرآن میں بیان فرمایا ہے: رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا یعنی خدا تعالیٰ تو ہم کو ہماری بیویوں اور بچوں سے آنکھ کی ٹھنڈک عطا فرمادے۔اور یہ تب ہی میسر آسکتی ہے کہ وہ فسق و فجور کی زندگی بسر نہ کرتے ہوں بلکہ عبادالرحمن کی زندگی بسر کرنے والے ہوں اور خدا کو ہر شے پر مقدم کرنے والے ہوں اور آگے کھول کر کہہ دیا وَ اجْعَلْنَالِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا اولاد اگر نیک اور متقی ہو تو یہ ان کا امام ہی ہو گا۔اس سے گویا متقی ہونے کی بھی دعا ہے۔(ملفوظات جلد اول صفحہ 5602 55