عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 54
عائلی مسائل اور ان کا حل رہنا چاہئے۔تو جب ہر وقت انسان یہ دعا کرتا رہے کہ اے اللہ ! تو ہم پر رحمت تار اللہ کی نظر کر ، اور ہم پر رحمت کی نظر ہمیشہ ہی رکھنا، کبھی شیطان کو ہم پر غالب نہ ہونے دینا، ہماری غلطیوں کو معاف کر دینا اور ہم تجھ سے تیری بخشش کے بھی طالب ہیں ، ہمارے گناہ بخش اور ہمارے گناہ بخشنے کے بعد ہم پر ایسی نظر کر کہ ہم پھر کبھی شیطان کے چنگل میں نہ پھنسیں اور جب اتنے فضل تو ہم پر کر دے تو ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا بنا، ان کو یاد رکھنے والا بنا اور سب سے بڑی نعمت جو تو نے ہمیں دی ہے وہ ایمان کی نعمت ہے ، ہمیشہ ہمیں اس پر قائم رکھ ، کبھی ہم اس سے دور جانے والے نہ ہوں اور دعا پڑھتے رہیں ربَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ (آل عمران: 9) اے ہمارے رب! ہمارے دلوں کو ٹیڑھانہ ہونے دے بعد اس کے کہ تو ہمیں ہدایت دے چکا ہو اور ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا کر۔یقینا تو ہی ہے جو بہت عطا کرنے والا ہے۔اگر دعاؤں کی طرف توجہ نہیں ہو گی تو شیطان مختلف طریقوں سے، مختلف راستوں سے آکر ور غلا تار ہے گا اور اس سے اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت کے بغیر نہیں بچا جاسکتا، جیسے کہ میں پہلے بیان کرتا آرہا ہوں۔اللہ تعالیٰ اس سے ہی بات کرتا ہے جو پیشگی اس سے دعائیں مانگے اور جس پر اس کی رحمت ہو اور یہ رحمت اس وقت اور بھی بہت بڑھ جاتی ہے جب اللہ تعالیٰ کی محبت دل میں پیدا ہو جائے“۔(خطبہ جمعہ فرمودہ 12 دسمبر 2003ء بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن۔مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 6 فروری 2004ء) 54