عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 254 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 254

عائلی مسائل اور ان کا حل اصلاح کی طرف توجہ دینی چاہئے۔مختلف ملکوں سے یہ بہت قابلِ فکر جائزہ میرے سامنے آیا ہے۔جب میں اسے دیکھتا ہوں تو عموماً یہی حالت ہے کہ ہمارے ہاں طلاق اور خلع کی شرح بڑھتی چلی جارہی ہے اور اس کی یہی وجہ ہے کہ بے صبری، نیکیوں میں کمی، تقویٰ سے دوری۔اب یہاں یو کے میں ہی تین سالوں کا جب میں نے جائزہ لیا تو میں حیران رہ گیا کہ تقریباً تین فیصد طلاق اور خلع کی شرح بڑھ چکی ہے اور بیس فیصد طلاقیں ہونے لگ گئی ہیں۔جتنے رشتے طے ہوتے ہیں اُن میں سے بیس فیصد ٹوٹنے لگ گئے ہیں اور یہ قابل فکر بات ہے۔اس طرف ہمیں بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے اور وجوہات یہی ہیں۔جب وجہ پتہ کرو جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ میاں بیوی کا گندی زبان کا استعمال ہے۔بد اخلاقیاں ہیں۔برداشت کی کمی ہے۔والدین ، بہن بھائیوں اور رشتے داروں کی دخل اندازیاں ہیں۔چاہے وہ لڑکے کے والدین بہن بھائی ہوں یا لڑکی کے ہوں۔جب ایک دوسرے کے رشتوں میں دخل اندازیاں کرتے ہیں تو پھر اُن میں مزید بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔گورحمی رشتوں کی ادائیگی کا تو حکم ہے لیکن والدین اور بہن بھائیوں کو بھی حکم ہے کہ تم لوگ بھی فساد پیدا نہ کرو۔میاں بیوی کو آرام اور سکون سے رہنے دو۔اگر یہ ہو جائے تو کبھی رشتے اتنے تیزی سے نہ ٹوٹیں۔پھر سچائی کا نہ استعمال کرنا ہے۔لڑکے باہر سے شادی کر کے یہاں آتے ہیں۔یہاں پڑھی لکھی لڑکیاں ہیں۔کہا جاتا ہے کہ گریجویٹ ہے جب پتہ کریں تو پتہ لگتا ہے کہ میٹرک فیل لڑکا آیا ہے۔اس 254