عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 255 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 255

عائلی مسائل اور ان کا حل سے بھی رشتے ٹوٹتے ہیں۔اسی طرح لڑکیوں کے بارے میں بعض کمیوں کا پتہ لگ رہا ہوتا ہے۔تو ہمیشہ سچائی کا استعمال کرنا چاہئے۔پھر حد یہاں تک ہے کہ اب میں بڑی عورتوں کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ رشتے ٹوٹنے کی یہ بھی شکایتیں ہیں کہ ساس اور سسر اپنی بہوؤں کو مارتے ہیں۔صرف اُن کے خاوندوں سے مار نہیں پڑواتے بلکہ خود بھی ہاتھ اُٹھانا شروع کر دیتے ہیں جو کسی طرح بھی جائز نہیں ہے۔پھر یہاں آ کے لڑکے بعض غلط کاموں میں پڑ جاتے ہیں اور بیویوں کو چاہتے ہیں کہ اُن کے ساتھ نہ رہیں۔اُن کو اگر وہ پاکستان سے آئی ہیں تو کسی نہ کسی بہانے سے پاکستان چھوڑ آئیں۔ایک دوسرے کے حقوق ادا نہیں کرتے۔پھر جب جماعت اصلاح کی کوشش کرتی ہے تو جماعت سے تعاون نہیں کرتے۔تو بہت ساری وجوہات ہیں جن کی بنیاد یہی ہے کہ تقویٰ میں کمی ہے اور اس کی وجہ سے رشتے ٹوٹتے چلے جارہے ہیں اور یہ تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے۔اللہ تعالیٰ مر دوں کو بھی اور عورتوں کو بھی عقل دے اور تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے اپنے رشتے نبھانے کی کوشش کرنے والے ہوں۔پس اس طرف توجہ دینی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت میں شامل کر کے جو احسان کیا ہے ہم اُس کی قدر کرنے والے بنیں۔اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر نظر ہو۔ہم یہ دیکھیں کہ ہم نے کل کے لئے آگے کیا بھیجا ہے؟ نہ یہ کہ ہم نے اپنے لئے اس دنیا میں کیا حاصل کر لیا ہے۔اللہ تعالیٰ تمام مر دوں اور عورتوں کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔(خطاب از مستورات جلسه سالانه بر طانیہ 23/ جولائی 2011ء۔مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 14 مئی 2012ء) 255