عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 249 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 249

عائلی مسائل اور ان کا حل اس کی بنیاد بھی قول سدید پر ہونی چاہئے۔صاف اور کھری اور سچی باتوں پر ہونی چاہئے۔اللہ تعالیٰ جو انسان کی فطرت کو جانتا ہے اس نے معاشرے کے امن کے لئے یہ بنیادی نصیحت فرمائی ہے کہ سچائی کو قائم کرو۔تبھی تم آپس کے رشتوں کو بھی نبھا سکتے ہو اور امن اور سلامتی سے بھی رہ سکتے ہو۔ایسی سچائی جس میں کسی بھی قسم کی الجھن نہ ہو۔فرمایا اگر یہ عہد کر لو کہ ہمیشہ صاف اور کھری بات کہنی ہے، جھوٹ اور غلط بیانی کے قریب نہیں جانا تو خدا تعالیٰ تمہارے گناہوں کے بخشنے کی ضمانت دیتا ہے۔تمہارے اعمال کی اصلاح ہو جائے گی۔ظاہر ہے جب اعمال کی اصلاح ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر انسان کام کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ بھی پھر اس کو پیار کرنے لگتا ہے۔جیسا کہ میں نے حدیث کی مثال دے کر کہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جھوٹ بولنا چھوڑ دو تو تمہاری برائیاں چھٹ جائیں گی۔یہی اصول ہر ایک کو اپنانا چاہئے۔پس اللہ اور رسول کے احکامات کی اطاعت میں ہی ہر شخص کی بقا ہے۔اگر مومن ہونے کا دعویٰ ہے تو چاہے وہ مرد ہے یا عورت ہے ان کی پابندی کرنا بہر حال ضروری ہے۔اسی میں ہماری کامیابیاں ہیں۔اس دنیا میں بھی ہماری زندگی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے والی ہو گی اور تمہاری اُخروی زندگی بھی تمہیں انعامات کا وارث بنائے گی۔پھر ان آیات میں سے آخری آیت میں تقویٰ کے حوالے سے اس طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ صرف اس دنیا کو ہی اپنی متاع نہ سمجھو۔یہی 249