عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 250 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 250

عائلی مسائل اور ان کا حل نہ سمجھو کہ یہ دنیا ہی سب کچھ ہے۔یہ بھی دیکھو اور نظر رکھو کہ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے بلکہ خاص طور پر نظر رکھو کہ تم نے کل کے لئے آگے کیا بھیجا ہے؟ کیا نیکیاں ہیں جو تم کر رہے ہو ؟ کون سا تقویٰ ہے جو تم نے اختیار کیا ہے؟ اپنی نمازوں کی حفاظت کی ہے؟ اپنے خاوندوں کے حق ادا کئے ہیں؟ خاوندوں نے بیویوں کے حق ادا کئے ہیں؟ بچوں کے حقوق ادا کئے ہیں؟ اپنے عہدوں کی حفاظت کی ہے؟ اپنے رحمی رشتوں کی حفاظت کی ہے؟۔ان سب کا اللہ تعالیٰ نے حساب لینا ہے۔اس لئے نظر رکھو کہ تم نے آگے کیا بھیجا ہے؟ کیونکہ اصل انعامات جو نہ ختم ہونے والے انعامات ہیں وہ تو اُخروی زندگی کے انعامات ہیں۔یاد رکھو جو کچھ تمہارے اس دنیا کے اعمال ہیں یہ نہ سمجھو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نظر سے مخفی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ تمہارے سب کاموں سے اور تمہاری تمام حرکات سے باخبر ہے۔پس یہ آیت پھر یاد کروا رہی ہے کہ ہر برائی کی جڑ تقویٰ پر نہ چلنا اور اس پر توجہ نہ دینا ہے۔پس اگر تم حقیقی، اخلاقی اور روحانی ترقی چاہتے ہو تو یاد رکھو کہ یہ خدا تعالیٰ پر ایمان اور یقین اور اُس کے احکامات پر اخلاص و وفا سے عمل کئے بغیر نہیں ہو سکتا۔پس شادی بیاہ کے معاملات اور رشتوں کو نبھانا تو بظاہر ایک دنیاوی کام لگتا ہے۔لیکن ایک مومن کی دنیا بھی دین ہوتی ہے۔ایک احمدی مومن عورت اور مرد کو اپنی زندگی اس نہج پر چلانی ہو گی اور چلانی چاہئے تا کہ وہ اُن کے جو عہد ہیں ان کو پورے کرنے والے ہوں۔تبھی وہ انعامات کے وارث بھی بنیں گے اور تبھی وہ اُس عہد کو پورا کرنے والے بھی بنیں گے جو زمانے 250