عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 248
عائلی مسائل اور ان کا حل لڑکوں کو اپنی تعلیم اور صحت وغیرہ اور جو کوئی بھی اگر برائیاں ہیں تو صاف صاف بتا دینی چاہئیں۔کیونکہ قولِ سدید یہی ہے کہ رشتہ طے کرنے سے پہلے کھل کر ہر بات سامنے آ جائے۔اگر یہ باتیں سامنے آجائیں تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ بعد میں پھر لڑائیاں اور جھگڑے بڑھیں۔بعض رشتے آتے ہیں پاکستان سے لڑکیاں بھی آتی ہیں یا انڈیا سے آتی ہیں یا دوسرے ملکوں سے آتی ہیں یا لڑ کے وہاں سے لڑکیوں کو لے کر آتے ہیں اور صحیح اور صاف بات نہیں کی جاتی، جھوٹ بولے جاتے ہیں جس کی وجہ سے پھر یہاں آکے چند دنوں بعد ہی خلع اور طلاق کی نوبت آجاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی نظر میں ایک انتہائی مکروہ فعل ہے۔باوجود اس کے کہ یہ حرام نہیں ہے۔اسے جائز قرار دیا لیکن بڑا مکروہ ہے۔اس سے بچنا چاہئے۔اگر اسی طرح شروع میں معلومات دے دی جائیں تو بہت سی خلع اور طلاقیں جو ابتدا میں ہو جاتی ہیں جیسا کہ میں نے کہا اُن سے بچت ہو سکتی ہے۔بعض لڑکے اور لڑکیاں کہیں اور رشتے کرنا چاہتے ہیں لیکن جہاں ماں باپ نے زور دیا وہاں ماں باپ کے کہنے پر کر لیتے ہیں۔پھر تھوڑے عرصے کے بعد رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔ماں باپ کا بھی کام ہے کہ قولِ سدید سے کام لیں اور جہاں رشتے کر رہے ہوں وہ پہلے اُن رشتے والوں کو بتائیں کہ میرا لڑکا جو ہے یالڑ کی جو ہے اُس کو ہم نے اس رشتے کے لئے مجبور کیا ہے تا کہ اگلا بھی سوچ سمجھ کر فیصلے کرے۔پھر شادی کے بعد ایک دوسرے سے جب اعتماد کا تعلق قائم ہو تو 248