عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 162
عائلی مسائل اور ان کا حل حصہ بنانا ہو گا۔اگر نہیں تو پھر ظلم کر رہے ہو گے۔انصاف والی تو کوئی چیز تمہارے اندر نہیں۔بعض لوگ یہاں انگلستان ، جرمنی اور یورپ کے بعض ملکوں میں بیٹھے ہوتے ہیں، معاشرے میں، دوستوں میں بلکہ جماعت کے عہدیداروں کی نظر میں بھی بظاہر بڑے مخلص اور نیک بنے ہوتے ہیں۔لیکن بیوی بچوں کو پاکستان میں چھوڑا ہوا ہے اور علم ہی نہیں کہ ان بیچاروں کا کس طرح گزارا ہو رہا ہے، یا بعض لوگوں نے یہاں بھی اپنی فیملیوں کو چھوڑا ہوا ہے۔کچھ علم نہیں ہے کہ وہ فیملیاں کس طرح گزارا کر رہی ہیں۔جب پوچھو تو کہہ دیتے ہیں کہ بیوی زبان دراز تھی یا فلاں برائی تھی اور فلاں برائی تھی تو اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ ایسے لوگوں کی بات ٹھیک ہے تو پھر انصاف اور عدل کا تقاضا یہ ہے کہ جب تک وہ تمہاری طرف منسوب ہے اسکی ضروریات پوری کرنا تمہارا کام ہے۔بچوں کی ضروریات تو ہر صورت میں مرد کا ہی کام ہے کہ پوری کرے۔بیوی کو سزا دے رہے ہو تو بچوں کو کس چیز کی سزا ہے کہ وہ بھی دردر کی ٹھوکریں کھاتے پھریں۔ایسے مردوں کو خوف خدا کرنا چاہئے۔احمدی ہونے کے بعد یہ باتیں زیب نہیں دیتی ہیں اور نہ ہی نظام جماعت کے علم میں آنے کے بعد ایسی حرکتیں قابل برداشت ہو سکتی ہیں یہ میں واضح کر دینا چاہتا ہوں۔ہمیں بہر حال اس تعلیم پر عمل کرنا ہو گا جو اسلام نے ہمیں دی اور اس زمانے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے نکھار کر وضاحت سے ہمارے 162