عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 155 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 155

عائلی مسائل اور ان کا حل اور جگہ بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔پس ہمیں ایسی تو بہ اور استغفار کی ہر وقت تلاش رہنی چاہئے جو حقیقی تو بہ ہو۔جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے: وَإِنِّي لَغَفَّارُ لِمَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَى (طه: 83) اور یقینا میں بہت بخشنے والا ہوں اُسے جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل بجالائے پھر ہدایت پر قائم رہے۔اب یہاں فرمایا کہ ہدایت پر قائم رہے۔پس مزید واضح کر دیا کہ تو بہ کے ساتھ عمل صالح ضروری ہے اور یہاں عمل صالح کی مزید ہدایت فرما دی اور تلقین فرما دی کہ کوئی غلط فہمی نہ رہے کہ میں نے خود آگے بڑھ کر صلح کرلی ہے بلکہ فرمایا کہ یہ جو ہدایت کا کام تم نے کیا ہے اگر یہ تمہارے نزدیک عمل صالح ہے تو یہ ایک دفعہ کا عمل نہیں ہے کہ توبہ کر لی اور میں نے صلح کر لی اور معافی مانگ لی، بلکہ پھر اس پر ہمیشہ کے لئے قائم بھی رہنا ہے اور ہدایت پر یہ قائم رہنا تمہیں پھر خدا تعالیٰ کا قرب دلائے گا۔پس دل صاف ہونے کا دعویٰ تبھی قابل قبول ہے جب اس پر قائم بھی ہو اور ہدایت پر نہ صرف قائم ہو بلکہ پھر ہر عورت کی، ہر مرد کی، ہر احمدی کی عمل صالح ایک پہچان بن جائے اور یہ پہچان دوسروں کے لئے بھی سبق اور نمونہ ہو۔اب ہر کوئی اپنے دل کو ٹٹول کر دیکھ سکتا ہے۔کیونکہ اگر حقیقت میں دل کو ٹولا جائے تو اپنے ضمیر کا فیصلہ سب سے اچھا فیصلہ ہوتا ہے بشر طیکہ دل صاف ہو ، بشر طیکہ خدا تعالیٰ کا خوف ہو کہ کیا میری توبہ 155