عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 154 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 154

عائلی مسائل اور ان کا حل لوگ ہیں، بعض عورتیں ہیں اپنی بعض رنجشوں میں مثلاً اُن کی یہ عادت ہوتی ہے کہ دوسروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں یا کوشش کرتی ہیں۔دلوں میں کینہ اور بغض پہنتے رہتے ہیں۔حقیقی تو بہ یہ ہے کہ جن سے رنجی رنجشیں ہیں اُن سے نہ صرف صلح کرو بلکہ اُن کے نقصان کا ازالہ کرو اور یہ ازالہ جب تو بہ کے ساتھ ہو گا تو وہی نیک عمل ہو گا، وہی عمل صالح ہو گا۔بعض خاوند ، بیویاں، ساس، بہوئیں، نندیں، بھابیاں مجھے تو خط لکھ دیتی ہیں کہ ہم سے غلطی ہو گئی اور ہم آئندہ ایسا کریں گی یا نہیں کریں گی لیکن جن کو نقصان پہنچایا ہوتا ہے یا جس کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہوتی ہے، اس سے نہ معافی مانگتی ہیں نہ اظہار ندامت کرتی ہیں۔بہر حال اس طرف عورتوں کو بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے اور مردوں کو بھی، کیونکہ مردوں کا بھی یہی حال ہے۔دنیاوی لالچیں اس طرح غالب آجاتی ہیں کہ خدا کا خوف بالکل ختم ہو جاتا ہے۔بعض دفعہ بعض لوگ ظاہری طور پر تو معذرت بھی کر لیتے ہیں لیکن بغض اور کینہ جیسا کہ میں نے کہا اندر ہی اندر پک رہے ہوتے ہیں اور جب بھی موقع ملے پھر نقصان پہنچانے کی کوشش ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے حقیقی تو بہ کو نیک عمل کے ساتھ مشروط کر دیا ہے، کہ اگر نیک عمل ہو گا تو حقیقی تو بہ ہو گی۔اگر کسی غلطی کا مداوا اور ازالہ ہو گا تو پھر ہی تو بہ قبول ہو گی اور جب یہ ہو تو پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسے لوگ حقیقی رنگ میں اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنے والے ہیں۔اس بارے میں 154