عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 153 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 153

عائلی مسائل اور ان کا حل نظام سے، قانون سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔لیکن اکثر دعا،صدقات اور رویوں میں تبدیلی سے شکوے کی بجائے اُس کی مدد مانگنے کے لئے اُس کی طرف مزید جھکنا چاہئے۔آنحضرت لم نے ایک موقعہ پر فرمایا: اے عورتوں کے گروہ ! صدقہ کیا کرو اور کثرت سے استغفار کیا کرو“۔( صحیح مسلم۔کتاب الایمان ، باب بیان نقصان الایمان بنقص الطاعات ) (جلسه سالانه جر منی خطاب از مستورات فرموده 23/ اگست 2003ء۔مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل18نومبر 2005ء) 25 جون 2011ء کو جلسہ سالانہ جرمنی میں مستورات سے خطاب کرتے ہوئے حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: پس تو بہ استغفار سے ہمیں اپنے اعمال کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس مضمون کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتا ہے کہ: وَمَنْ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَإِنَّهُ يَتُوبُ إِلَى اللهِ مَتَابًا (الفرقان :72) اور جو توبہ کرے اور نیک اعمال بجالائے وہی ہے جو حقیقی مومن ہوتا ہے۔پس حقیقی تو بہ صرف زبانی توبہ نہیں ہے بلکہ اعمالِ صالحہ کے ساتھ اُس کو سجانے کی ضرورت ہے۔اب جس نے حقیقی توبہ کی ہے وہ ہمیشہ اپنی غلطیوں اور کو تاہیوں کو سامنے رکھے گی۔اس لئے کہ یہ بات اُس عمل سے اسے کراہت دلوائے گی، نفرت پیدا کرے گی اور جب کراہت پیدا ہو گی تو پھر اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے صدقہ اور خیرات کی طرف توجہ ہو گی۔وہ عمل جو خدا تعالیٰ کو نا پسندیدہ ہیں کبھی نہ کرنے کا وہ عہد بھی کرے گی۔پھر بعض 153