تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 98
۹۸ دینیات کا پہلا رسالہ نماز پڑھنے کا طریق نماز کے لئے بدن کپڑا اور نماز پڑھنے کی جگہ پاک ہو۔بدن ڈھا نہیں۔اگر مرد کا ناف سے گھٹنوں تک عورت کا منہ ہتھیلیوں اور قدموں کے سوا بدن کا کوئی حصہ نگا نہ ہو۔حضرت نبی کریم ﷺ ہمیشہ جماعت کے ساتھ نماز کے فرض پڑھا کرتے تھے۔اس لئے ہر ایک مسلمان کو چاہیے کہ آپ کی پیروی کرے اور جماعت کے ساتھ نماز ادا کرے۔نماز جماعت کے لئے پہلے اذان کہی جاتی ہے اور اس کے بعد جب نمازی جمع ہو جائیں تو مؤ ڈن یا اس کی اجازت سے کوئی اور شخص امام کے پیچھے پہلی صف میں قبلہ کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو اور کانوں پر ہاتھ دھرے بغیر اقامت کہے مگر اذان کے الفاظ ذرا جلدی جلدی ہے اور حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ کے بعد قَدْ قَامَتِ الصَّلوة دودفعہ کہہ کر باقی الفاظ کہے۔جب تکبیر ہو رہی ہو اس وقت امام اپنی جگہ پر کھڑا ہو اور مقتدی صفیں درست کر لیں اور ایک دوسرے کے ساتھ خوب مل کر کھڑے ہوں۔آگے پیچھے کوئی نہ ہو۔پھر امام اور مقتدی سب قبلہ کی طرف منہ کر کے دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ اکبر کہیں مگر امام پہلے اللہ اکبر کہے اور مقتدی بعد میں کہیں اور ہاتھ باندھ لیں۔ہاتھ باندھنے کے لئے احادیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سینہ پر ہاتھ باندھے جائیں اور یہ بھی کہ ناف کے نیچے دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھیں ( بعض مسلمان ہاتھ کھول کر بھی نماز پڑھتے ہیں)۔پھر سب ثناء آہستہ پڑھیں۔پھر تعوذ اور تسمیہ پڑھا جائے اور اس کے بعد الحمد شریف پوری پڑھیں۔پھرا میں کہیں۔پھر امام الحمد شریف کے بعد کوئی سورت چھوٹی یا بڑی پڑھے۔ظہر اور عصر کی ساری نماز میں اور مغرب کی تیسری رکعت میں اور عشاء کی اخیر دورکعت میں سب کچھ آہستہ پڑھا جائے اور صبح کے فرض اور شام کی پہلی اور عشاء کی پہلی دو رکعت میں امام بلند آواز سے پڑھے۔جمعہ اور عیدین کی نماز میں بھی امام بلند آواز سے پڑھے اور جب امام اونچا پڑھتا ہو تو مقتدی چپکے سنا کریں البتہ مقتدی لوگ الحمد شریف آہستگی سے پڑھیں۔