تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 78 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 78

ZA رو شخ صابر کا دس کفار کا مقابلہ کرنا اور رسول سے گوشہ کرنے میں صدقہ دینا عزیمت ہے اور یہ کام نہ کرنا رخصت۔وتر کی ایک یا تین یا پانچ یا سات یا نو رکعتیں باختلاف انواع سب درست ہیں اور یہ اختلاف ایسا ہے جیسے نماز میں کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم نے کوئی سورۃ پڑھی کبھی کوئی۔خرگوش کے استعمال میں اگر کوئی کراہت کی دلیل پیش کرے ( گو دلائل پیش شدہ صحیح نہیں ہیں ) تو اس کا کھانے والا اباحت اصلی کو بعد میں تسلیم تعارض مریج کہہ سکتا ہے۔مومن کا عمدا قتل ابدی سزا کا سبب ہے اور قاتل کا سچا ایمان اور رحمت الہیہ اور شفاعت شافعین بلکه تو بہ وغیرہ اس ابدی سزا کے مانع ہیں اور تجاذب کی حالت میں قومی کا مؤثر ہونا ظاہر ہے۔فقرہ دہم :۔روز مرہ کے مسائل میں رفع یدین اور فاتحہ کا مسئلہ لو۔جناب شیخ عبدالحق دہلوی سفر السعادت کی شرح میں فرماتے ہیں۔علماء مذهب مابا این مقدارا کتفا نمی کنند و گویند که حکم رفع رفع يدين عند الركوع والرفع منه والرفع ابتداء مرا لثالثه منسوخ است و چون ابن عمر را که راوی حدیث رفع است دیدند که بعد رسول اللہ صلعم عمل بخلاف آں کردہ ظاہر شد که عمل رفع منسوخ است و از ابن همام نقل فرموده در نماز ابتدا حال اقوال وافعال از جنس این رفع (رفع یدین در سجدتین ) مباح بوده که منسوخ شده است پس دور نیست که این نیز ازاں قبیل باشد و مشمول نسخ بود - انتهی۔شیخ نے نسخ کا مدار اول تو ابن عمر کے نہ کرنے پر رکھا دوم اس پر کہ جب سجدے کے رفع یدین اجماعاً منسوخ ہے تو رکوع کو جاتے اور اٹھتے اور تیسری رکعت کی رفع بھی منسوخ ہوگی اور یہ دونوں باتیں تعجب انگیز ہیں۔اول تو اس لئے کہ ابن عمر کا رفع نہ کرنا ابو بکر بن عیاش نے روایت کیا ہے اور یہ شخص معلول مختلط الخبر ہے۔دیکھو بخاری کی جزء الرفع اور ابن معین نے تو تهم من ابن عياش لا اصل لهـ دویم :۔عینی نے بہتی سے روایت کیا کہ مجاہد کی روایت (ابن عیاش والی ) ربیع لیث ، طاؤس، سالم، نافع ، ابوالزبیر، محارب بن دثار جیسے ثقفون کے خلاف ہے یہ ثقہ لوگ ابن عمر سے اس رفع یدین کا کرنا نقل کرتے ہیں۔سیوم :- ابن عمر سے مسند احمد میں مروی سے انه اذارای (ابن عـمـر) مصلیالم يرفع ۱۴