تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 79
و شیخ ۷۹ حصبہ اور بخاری نے جزء الرفع میں کہار ماہ بالحصی۔بھلا جو شخص یہ تشدد کرے کہ رفع یدین نہ کرنے پر پتھر مارے وہ خود نہ کرے۔چہارم :- بخاری نے جزو میں فرمایا ہے لم يثبت من احــد مــن احدا من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم انه لم يرفع پنجم :- ناسخ کو منسوخ کے مساوی ہونا چاہئے یہاں ایک طرف ابن عمر کا معلول اور بے اصل اثر دوسری طرف ابن عمر سے صحیح ثابت اثر بلکہ مرفوع روایت اور بیہقی کی حدیث جناب ابوبکر سے اور دار قطنی کی عمر رضی اللہ عنہ سے بلکہ پچاس صحابہ کی روایت اور بیہقی کی وہ روایت جس میں فمازالت تلك الصلواة حتى لقى الله والی موجود ہے اور سیوطی کا اس حدیث کو از ہار میں احادیث متواتر سے شمار کرنا۔ششم :۔مانا کہ ابن عمر سے عدم رفع ثابت ہے پھر کیا غیر معصوم پر صرف یہ حسن ظن کر کے کہ اُس نے خلاف امر مشروع نہ کیا ہوگا۔نبی معصوم کے ثابت فعل کو منسوخ کہہ دینا، انصاف ہے اور کیا صحابی کا عدم فعل شرعی امر کا ناسخ ہوسکتا ہے۔ہفتم :۔صحابہ پر بڑا سوء ظن ہے کہ انہوں نے منسوخ حدیث رفع یدین کو بیان کیا اور ناسخ کی روایت نہ کی۔ہشتم:۔جائز ہے کہ ابن عمر نے رفع یدین کو عزیمت خیال فرمایا اور عدم رفع کو رخصت اور رخصت پر عمل کیا۔نم :۔قیاس نص کا ناسخ نہیں ہوتا۔ودہم :۔یہاں اصل یعنی سجدے کی رفع یدین کو منسوخ کہنا ہی صحیح نہیں۔فرع یعنے نسخ رفع عند الركوع والرفع عند الرفع منه وعند الثالثہ کیونکر ثابت ہوسکتا ہے۔فائدہ۔ابن زبیر سے یہ رفع ثابت ہے اور نسخ کی روایت ان سے بالکل ثابت نہیں ایسا ہی ابن مسعود سے نصائح ثابت نہیں۔دوسری بات کی غلطی سجدتین کی رفع نسائی میں مالک بن حویرث سے۔ابو داؤد میں عبد اللہ بن زبیر سے۔جس کی تصدیق ابن عباس نے کی۔ابن ماجہ میں ابو ہریرہ ۱۵