تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 77 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 77

رد شخ 22 آخر وليس بـه نســخ انما النسخ الازالة للحكم حتى لا يجوز امتثاله (يه حتى لا يجوز کا لفظ یا درکھنے کے قابل ہے خصوصاً الآن خفف اور اشفقتم وغیرہ میں ) فقرہ ہفتم:۔بعض صحابہ اور سلف سے تنقید اور تخصیص اور ابطال وغیرہ کو نسخ کہنا ثابت ہے الا اول تو ان کے اور ساتھ والوں نے نسخ کے ایسے عام معنے نہیں لئے۔دوم۔اگر نسخ تغیر کہتے تھے تو ان کے یہاں ایسے معنے کی نسخ قرآن میں آجاوے۔اخبار سے ممنوع نہ تھی۔ہمارے صاحبان شیخ کے معنوں میں ان کا محاورہ لیتے ہیں اور پھر سنن ثابتہ ہے۔قرآن کی یہ نسخ تجویز نہیں کرتے۔عملدرآمد میں اس اصطلاحی نسخ کو نسخ بمعنے رفع الحکم کا مرتبہ دے رکھا ہے۔فقر ہشتم:۔ماننسخ کا جملہ جملہ شرطیہ ہے اور شرط کا وجودضرور نہیں ہوتا۔دیکھو ان کان للرحمن ولد والی آیت پس آیت ماننسخ سے مطلق نسخ کا وقوع بھی ثابت نہیں ہوسکتا۔قرآن میں آیات منسوخہ کا موجود ہونا اس سے کیونکر ثابت ہوسکتا ہے۔یادرکھو میں مطلق وقوع نسخ کا انکار نہیں کرتا بلکہ کہتا ہوں کہ قرآن اور صحیحین اور ترمذی میں بالاتفاق منسوخ کوئی حکم نہیں ( ترمذی میں جمع صلواتیں ظہرین و مغربین اور قتل شارب کی حدیث بھی منسوخ نہیں تفصیل اُس کی دراسات وغیرہ میں موجود ہے) فقرہ نہم:۔میں نے بہت ایسے لوگ دیکھے جن کا یہ ڈھنگ ہے کہ جب دو بظاہر متعارض حکموں کو دیکھا اور تطبیق نہ آئی لا اعلم کہنے سے شرم کھا کر ایک میں نسخ کا دعوی کر دیا۔یا جب کوئی نص اپنے فتوے کے خلاف سنی اول تو لگے اس میں تو جیہات جمانے۔جب یہ کوشش کارگر نہ ہوئی جھٹ دعویٰ کر دیا کہ ان میں سے فلاں حکم اجماع کے خلاف ہے۔جب اجماع کی غلطی معلوم ہوئی تو اجماع کو مقید کر دیا اور کہہ دیا کہ یہ اجماع اکثر کے اعتبار سے ہے۔جب اُس کو بھی کسی نے خلاف ثابت کیا تو شیخ کا دعویٰ کر دیا۔حالانکہ بظاہر متعارض حکموں میں ایک کو عزیمت پر محمول کر لینے اور اباحت اصلیہ کو عارضی حرمت پر ترجیح کا موجب جان لینے اور شریعت کو اسباب اور مواقع کا مبین مان لینے سے قریباً کل تعارض دفع ہو سکتے ہیں۔یہ عجیب قاعدہ تفصیل طلب ہے۔الا اس خط میں گنجائش نہیں چند مثالیں سن رکھو۔مسنِ ذکر سے وضو کرنا۔یا عدم انزال میں غسل کر لینا۔ایسا ہی ایک مومن ۱۳